خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 620
خطبات طاہر جلد ۱۱ 620 خطبه جمعه ۴ ستمبر ۱۹۹۲ء اوڑھنی ہیں اور سجانی ہیں یہاں تک کہ وہ اس سمندر کے ایک پھولوں کا ایک گلدستہ سا معلوم ہونے لگتے ہیں اور پہچانے نہیں جاتے۔مکڑی جو جالا بن کر تاک میں رہتی ہے وہ بھی خــدعــہ ہے۔جھوٹ نہیں ہے خدعہ ہے کیونکہ جہاں انسانی زندگی کی بقا کا سوال ہے اور جہاں قانون دونوں کو اجازت دیتا ہو کہ جو چا ہو کر ووہاں حکمت سے کام لے کر اپنے دشمن پر قابو پانایا دشمن کے داؤ سے بچنا جھوٹ نہیں ہے، اس کو خدعہ کہا جاتا ہے لیکن امن کے ماحول میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔جہاں امن کا ماحول ہو وہاں اگر خدعہ اختیار کیا جائے تو جھوٹ بن جائے گا اسی لئے حرب کے ماحول کو سمجھ کر اسی کی حدود کے اندر خدعہ سے کام لیں اور جہاں دشمن آپ کے خلاف مکر میں پہل کرتا ہے وہاں جوابی مکر اختیار کرنا ہے مگر اسی حد تک جس حد تک قرآن اجازت دیتا ہے اور سنت سے ثابت ہو اس سے آگے نہیں۔یہ وہ پاکیزہ زندگی ہے جس کو ہمیں جماعت احمدیہ میں رائج اور نافذ کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کے طفیل ان پاکیزہ رسموں کو غیروں میں رائج کرنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مگر اُن بار یک تدبیروں اور تصرفات کو کہتے ہیں کہ وہ ایسے مخفی اور مستور ہوں کہ جس شخص کے لئے وہ تدابیر عمل میں لائی گئی ہیں وہ ان تدبیروں کو شناخت نہ کر سکے اور دھو کہ کھا جائے۔“ ( حیوانات کی دنیا میں سو فیصدی مکر جاری ہے۔۔۔پس مکر دو قسم کے ہوتے ہیں۔اول وہ کہ جن کے عمل درآمد سے ارادہ خیر اور بہتری کا کیا گیا ہے اور کسی کو نقصان پہنچا نا منظور نہیں ہے جیسا کہ ماں اپنے بچے کو اس مکر سے دوا پلا دیتی ہے کہ وہ ایک شربت شیریں ہے اور میں نے بھی پیا ہے، بڑا میٹھا ہے۔۔۔۔اب دیکھیں اس میں احمدی ماؤں کے لئے کتنے سبق ہیں۔اس چھوٹے سے فقرے میں کتنی پیاری بات بیان کر دی گئی ہے بعض مائیں جھوٹ بول کر بچے کو خیر کی کوئی چیز دینے پر مجبور کر دیتی ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی اجازت نہیں دی۔فرمایا شربت میں دو املا دو اور ماں خود پی کر بتادے کہ دیکھو! میں بھی پی رہی ہوں تو اس کا نام جھوٹ نہیں ہے اس کا نام مکر خیر ہے۔نیت بھی خیر کی ہے ، طریق کار بھی خیر اور کچھ پہلو جو کسی کو غافل کر کے اُس کے فائدے کی ایک چیز