خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 605 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 605

خطبات طاہر جلد ۱۱ 605 خطبه جمعه ۲۸ را گست ۱۹۹۲ء جو اُس کے لئے آسمان سے نازل ہوا ہے کیونکہ قرآن کریم نے اس کی تفصیل یہی بیان فرمائی ہے۔اگر وہ نہیں تو پھر ایک مکر وہ بات ہے۔اس کے سوا اس کی کوئی بھی حقیقت نہیں فرمایا: وَالَّذِينَ يَمْكُرُونَ السَّيَّاتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَكْرُ أُولَيكَ هُوَ يَبُورُ (فاطر (۱۲) کہ وہ لوگ جو بدند بیروں میں ہمیشہ مصروف رہتے ہیں ان کی عمر چالا کیوں میں گزر جاتی ہے۔منصوبے بنانا ، سازشیں کرنا ، جھوٹی تدبیریں کر کے جھوٹی عزتیں حاصل کرنے کا شوق، سیاست میں بھی چلتا ہے، دین میں بھی چلتا ہے ، ہر جگہ یہی چیز چلتی جاتی ہے۔فرمایا اُن کے لئے ہم خوشخبری دیتے ہیں کہ اُن کے لئے بڑا سخت عذاب ہے اور اُن کا یہ جو فعل ہے یہ تباہی کی طرف لے جانے والا ہے۔ان کو اس سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکے گا سوائے اس کے کہ وہ ہلاک ہو جائیں۔یہ تو ہے معاشرے میں مکر مکر کے ذریعہ انسان معاشرے میں کوئی مقام حاصل کرتا ہے۔کوئی حرص کے ذریعہ کسی کی بچی دھو کے سے حاصل کر لیتا ہے اور پھر اُس پر ظلم کرتا ہے۔حرص و ہوا کے ذریعہ کسی کا مال غصب کر لیتا ہے۔دھو کے کے ذریعہ جھوٹی عزتیں حاصل کرتا ہے۔یہ سارے ایسے مکر ہیں جن کا انجام بالآخر بد ہے اور جوسوسائٹی ان مکروں میں مبتلا ہو اس کو کبھی آپ سکھ والی سوسائٹی نہیں دیکھیں گے۔دن بدن دکھوں میں مبتلا ہوتی چلی جاتی ہے۔عَذَابٌ شَدِيدُ کی جو پیشگوئی ہے یہ صرف بعد کی نہیں ہے اسی دنیا کی بھی ہے۔ان ملکوں کا حال دیکھیں جہاں یہ چیزیں چل رہی ہیں جو ابھی میں نے بیان کی ہیں۔دن بدن عذاب میں مبتلا ہوتے چلے جارہے ہیں۔ان گھروں کا حال دیکھ لیں جہاں اس قسم کے فساد چلتے ہیں کسی کا آپ نیک انجام نہیں دیکھیں گے۔ہر وقت دکھ، ہر وقت عذاب ، مقدمہ بازیاں، مصیبتیں ، کوئی جھوٹا رزق حاصل کیا تو وہ بھی عذاب کا موجب بن جاتا ہے اور عَذَابٌ شَدِيد اس طرح بھی بنتا ہے کہ اُن کی اولادیں بعض دفعہ ضائع ہو جاتی ہیں یا وہ ہاتھوں سے نکل جاتی ہیں یا وہ ایسے بد کاموں میں مبتلا ہو جاتی ہیں کہ ماں باپ کے لئے ذلت اور رسوائی کا موجب بن جاتے ہیں۔لوگ ایسی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں جو آسمان سے اترتی ہیں اور پھر پیچھا نہیں چھوڑتیں۔کئی قسم کے ابتلا ہیں جوگھیرا ڈال لیتے ہیں۔پس جب خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے لئے عَذَابٌ شَدِيدٌ ہے تو یہ بالکل اس وہم میں مبتلا نہ ہوں کہ مریں گے تو دیکھا جائے گا اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔یہ عذاب ہے جو دنیا میں شروع ہو جاتا ہے