خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 604 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 604

خطبات طاہر جلد ۱۱ 604 خطبه جمعه ۲۸ را گست ۱۹۹۲ء ہی ہے لیکن بڑے بڑے نیک ناموں پر مکر چل رہا ہوتا ہے۔پس جماعت کے عہدوں کو، جماعت کے نظام کو جو لوگ جھوٹی عزتوں کا ذریعہ بناتے ہیں ان کے لئے میں قرآن کریم کے الفاظ میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيْعًا ( فاطر:۱۱) یاد رکھو جس کو عزت چاہئے ، اللہ ہی کے پاس عزت ہے اس کے سوا آپ کو کوئی عزت نصیب نہیں ہو سکتی۔خدا کے نظام سے دھوکہ کر کے، فریب کاریوں کے ذریعہ ، نظام کی جڑیں کھوکھلی کر کے اور مسلسل دھڑے بازیوں میں مبتلا ہو کر اگر آپ عزت چاہتے ہیں تو کوئی عزت نہیں ملے گی۔عزت کیسے ملے گی؟ فرمایا اِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ (فاطر: ۱۱) کتنا پیارا صاف ستھرا پاکیزہ بیان ہے اور عزتیں حاصل کرنے کا کیسا عمدہ طریق بیان فرمایا۔فرمایا۔إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ اب پہلے تو اپنی نیتوں کو پاک صاف کر کے بات کرو۔وہی بات خدا کے ہاں قبول ہوگی اور اس کی درگاہ میں قبولیت پائے گی جو طیب ہو۔طیب ایسی بات کو کہتے ہیں جس میں جھوٹ کی دور کی بھی ملونی نہ ہو۔ادنی سی بھی ملونی نہ ہو صاف نیت سے بات کی گئی ، پاک لفظوں میں بیان کی گئی نہایت ہی خوبصورت مہکتے ہوئے انداز میں سچائی کے ساتھ وہ بات پیش کی گئی نیت بھی پاک تھی ، طرز بیان بھی پاک اور بالآخر اس کا انجام بھی پاک تھا اس کو کہتے ہیں کلمہ طیبہ۔فرمایا یہ کلمہ طیبہ ہے جو خدا تک پہنچتا ہے عزت کے حصول کے لئے وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ اور اس پاک کلمہ کو اونچا کرنے کے لئے عمل صالح کی ضرورت ہے صرف منہ کی پاک باتیں نہ ہوں بلکہ نیک اعمال ان باتوں کو تقویت دے رہے ہوں ان پروں کو توانائی بخشیں کہ وہ پر چل تو سکیں۔پروں میں طاقت ہی نہ ہوتو وہ کیسے پرواز کریں گے۔پس کلام کو جو پاکیزہ ہو ایک پرندے کی طرح پیش فرمانا جس میں اُڑنے کی سکت ہے مگر وہ نیک اعمال سے طاقت لیتا ہے۔اگر نیک اعمال نہیں ہیں تو کلمہ طیبہ میں اڑنے کی طاقت نہیں ہوگی۔فرمایا یہی وہ طریق ہے جس کے ذریعہ تم عزتیں حاصل کرتے ہو۔عزتیں ساری اللہ کے پاس ہیں اور عزت کا سوال وہاں تک کیسے پہنچتا ہے فرمایا۔نیک باتوں کے ذریعہ، پاکیزہ باتوں کے ذریعہ، ایسی پاک باتوں کے ذریعہ جن کو اعمال صالحہ طاقت بخشتے ہوں۔پس اگر جماعت کا کوئی عہدیدار اپنی سچائی اور پاکیزگی کی وجہ سے ہر دلعزیز بنا ہو، اگر اُس کے نیک اعمال انتخاب کے وقت پیش نظر ہوں تو یقیناً جو وہ مقام پا گیا ہے وہ عزت کا مقام ہے وہ یقیناً ایسا مرتبہ ہے