خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 603
خطبات طاہر جلد ۱۱ 603 خطبه جمعه ۲۸ اگست ۱۹۹۲ء جاتا ہوں لیکن مجبوری ہے۔اس کی زیادہ تفصیل سے چھان بین کی نہیں جاسکتی۔بعض ایسے آدمی میرے علم میں ہوتے ہیں جن کو بہت زیادہ چندہ دینا چاہئے اگر وہ خدا کی خاطر چندہ دیتے تو اُن کا بقایا دس ہزار بنتا لیکن انہوں نے جس بت کی خاطر چندہ دیا ہے وہ تو ہر بیان کو قبول کرے گا وہ تو یہ چاہے گا ووٹر بن جائے سہی ، کم سے کم دے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ خدا کی خاطر تو دیا ہی نہیں جارہا، نقصان اگر ہے تو جماعت کا ہے۔اس کو کیا فرق پڑتا ہے اس کو تو صرف ووٹ ملتا ہے۔پھر وہ اس بات میں بھی بعض دفعہ مددکرتا ہے کہ جی !تمہارا بنتا ہی اتنا ہے اور اگرسیکرٹری مال کہے کہ تمہارا زیادہ بنتا تھا تو اس کے ساتھ جھگڑا کریں گے کہ تم انکم ٹیکس کے انسپکٹر لگے ہو تمہیں کیا پتا۔جھوٹ کا الزام لگاتے ہو چپ کر کے لے لو جو دیا جاتا ہے یہی تھا جو بنتا تھا یہی دیا جارہا ہے۔شروع سے آخر تک دھوکہ ہی دھوکہ اور فساد ہی فساد Exercise ہے اور یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ کسی کو پتا نہیں چل رہا۔جب رپورٹیں آتی ہیں تو چاہے وہ امریکہ سے آرہی ہو یا پاکستان کے کسی گاؤں سے آرہی ہو ان رپورٹوں پر پتلی سے جھلی ہے فلم ہے دھوکوں کی اس کے آر پار صاف دھوکہ دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔جب فہرستیں دیکھتا ہوں تو حیران ہو جاتا ہوں کہ ان لوگوں نے کتنا ظلم کا سودا کیا ہے۔پیسے ضائع کر دیئے اور شیطان کے حضور ڈالے نام خدا کا لیا۔پھر دوسرے لوگ ہیں وہ یہ شکوے شروع کر دیتے ہیں کہ جناب آپ لوگوں کے نزدیک مال کی قیمت ہے تقویٰ کی کوئی قیمت نہیں ہے۔یہ نظام جماعت ہے جس میں چندے لے کر ووٹ بنتے ہوں، پیسے وصول کر کے ووٹ بنتے ہیں خواہ کوئی نماز پڑھتا ہے یا نہیں پڑھتا۔اُن کا اعتراض اگر بنیادی طور پر فی ذاتہ درست بھی ہو تب بھی اُن کی طرف سے دراصل یہ دھوکہ بازی ہے کیونکہ سارا سال جس بھائی نے نماز نہیں پڑھی اس کے لئے اُن کا دل بے چین نہیں ہوا۔سارا سال جس بھائی نے تقویٰ کے او پر قدم نہیں مار اس کے لئے ان کو کوئی تکلیف نہیں پہنچی ، کوئی کوشش نہیں کی نظام جماعت کو اس وقت اطلاع نہیں کی جب ان کی اصلاح کا وقت تھا اب الیکشن کے موقع پر ان کے تقویٰ کی راہ سے ہٹ جانے کا خیال ان کو کیسے آ گیا ؟ الیکشن کے موقع پر ان کی بے نمازیاں کیوں اُن کو چھنے لگیں صاف ظاہر ہے کہ تکلیف اپنے منتخب نہ ہونے کی یا اپنے کسی ساتھی کے منتخب نہ ہونے کی ہے نہ کہ کسی کی بے راہ روی کی تو تقویٰ کی راہیں بڑی باریک ہیں اور یہ مکر جو ہے یہ ہر چیز میں چلتا ہے نیکی کے نام پر بھی چلتا ہے۔کھلی کھلی بدی کے طور پر تو مکر چلتا