خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 601 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 601

خطبات طاہر جلدا 601 خطبه جمعه ۲۸ اگست ۱۹۹۲ء یہ نظر عطا فرمائی تھی۔اُس کے سامنے ہیں۔چالاکیاں میرے سامنے کر لیں گے، قضاء کے سامنے کر لیں گے بعض دوسرے ثالثوں کے سامنے کر لیں گے۔اللہ کے سامنے چالا کی کیسے کام آئے گی اس کی تقدیر ضرور جاری ہوگی کہ پھر آپ گمراہ قرار دئیے جائیں گے اور دن بدن آپ کا قدم راہ ہدایت سے بھٹک کر گمراہی کی طرف آگے بڑھتا رہے گا۔پھر بعض دفعہ لوگ جب اسی مکر میں مبتلا ہوتے ہیں تو بعض دفعہ نظام جماعت سے بھی مکر شروع کر دیتے ہیں اور چالاکیوں سے کام لیتے ہیں اور عہدوں کو عزت کا ذریعہ بنا لیتے ہیں حالانکہ جماعتی عہدے جو ہیں وہ تو خوف کا مقام ہیں، اتنی بڑی ذمہ داری کسی پر عائد ہو جس میں وہ خدا کے سامنے جوابدہ ہو، اس کو خود آگے بڑھ کر مانگ کر قبول کرنا یا تو انسان کے کردار کی بہت بڑی عظمت ہے یا بہت بڑی بیوقوفی ہے۔عظمت والی بات تو صرف حضرت محمد مصطفے مے پر صادق آتی تھی کہ آپ نے اس امانت کو قبول کر لیا جو خدا نے نازل فرمائی لیکن مانگی نہیں تھی قبول کرنے میں بھی بڑی عظمت تھی لیکن عہدوں کو لالچ میں مانگ کر سوال کر کے یا چالاکیاں کر کے عہدے لینا یہ عظمت نہیں ہے یہ انتہائی بیوقوفی ہے۔اس لئے بیوقوفی ہے کہ اگر آپ کے اوپر ایک ذمہ داری ڈالی جائے تو اس ذمہ داری ڈالنے کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے پھر آپ سے غفلت ہوتی ہے تو آپ اللہ تعالیٰ سے عرض کرتے ہیں کہ اے خدا! ہم نے تو تیری خاطر یہ قبول کیا تھا ہمیں تو کوئی شوق نہیں تھا۔تو نے یہ ذمہ داری ہم پر ڈال دی ہے اب ہم سے مغفرت کا سلوک فرما، ہماری پردہ پوشی فرما، غلطیاں ہو جاتی ہیں صرف نظر فرما، تو ایسے شخص کی دعا قبول ہوتی ہے خدا اس کی کمزوریوں سے صرف نظر فرماتا ہے مگر جو شوخی کے ساتھ آگے بڑھتا ہے اور اپنی عزت کی خاطر جو بے معنی بات ہے کیونکہ عہدوں میں کوئی عزت نہیں لیکن وہ سمجھتا ہے کہ جماعت کا عہدہ ہے میں سیکرٹری مال بن جاؤں یا امیر مقرر ہو جاؤں تو میری بڑی شان ہو جائے گی جو اس سرسری نظر سے، بیرونی نظر سے عہدوں کو دیکھتا ہے اور آگے بڑھ کر ان کو قبول ہی نہیں کرتا بلکہ شاطرانہ چالوں کے ذریعہ یہ انتظام کرتا ہے کہ عہدہ اس کو ملے، ایسا شخص سوائے اس کے کہ اپنے لئے عذاب سہیڑ رہا ہو ، عذاب خرید رہا ہو اس کے سوا اس کو کوئی بھی فائدہ نہیں لیکن نظام جماعت میں بعض معاملات ایسے ہیں بعض جگہیں ایسی ہیں جو ان باتوں میں دیر سے بدنام ہیں، بعض بستیاں ایسی ہیں جہاں ہیں ہیں سال سے یہ جھگڑے چلے ہوئے ہیں کہ عہدے پر