خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 600 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 600

خطبات طاہر جلد 600 خطبه جمعه ۲۸ را گست ۱۹۹۲ء الله کہ فلیس منا۔ہر مکر کرنے والا ، ہر فریب کرنے والا اس پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے جو میں نے بیان کیا ہے آنحضرت ﷺ سے اپنا تعلق توڑ لیتا ہے اور جب تعلق توڑ لیتا ہے تو پھر صحیح راستے سے ہٹ کر گمراہی میں جاتا ہے۔یہ اس آیت کریمہ کی بعینہ تفسیر ہے جو میں نے آپ کے سامنے پڑھ کے سنائی ہے فرمایا بَلْ زُيْنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوا مَكْرُهُمْ وَصُدُّوا عَنِ السَّبِيلِ بلکہ ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ ان کے مکرنے ان کو سچی راہ سے الگ کر دیا یعنی محمد رسول اللہ اللہ کی راہ سے انہوں نے تعلق توڑ لئے وَمَنْ يُضْلِلِ اللهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ پس ایسا شخص جس کو خدا گمراہ قرار دے دے اس کے لئے پھر کوئی ہدایت دینے والا نہین۔خدا کا گمراہ قرار دینا اور محمد رسول اللہ ﷺ کا گمراہ قرار دینا حقیقت میں ایک ہی بیان کی دو شکلیں ہیں جس کو خدا گمراہ قرار دے اس کو آپ گمراہ قرار دیتے ہیں اور جس کو آپ گمراہ قرار دے دیں لازماً وہ خدا کے ہاں گمراہ لکھا جاتا ہے تو اتنے بڑے فتویٰ کے بعد پھر بھی اگر مکر وفریب ہماری سوسائٹی میں جاری رہیں تو اس کے نتائج سے میں نے آپ کو آگاہ کر دیا ہے ان کو پیش نظر رکھ کر ذمہ داری قبول کر کے اگر کسی کو حوصلہ ہے کہ حضور اکرم ہے سے اپنا تعلق کاٹ لے تو بے شک مکر کرتا رہے۔لین دین کے معاملات میں مجھے اتنے خطوط ملتے ہیں کہ جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص نے چالا کی کر کے ایسا رنگ اختیار کیا ہوا ہے کہ اگر اس کو پکڑا جائے تو کہے گا میں نے تو نہیں جھوٹ بولا میں نے تو یہ کیا تھا اور یہ کیا تھا حالانکہ شروع سے آخر تک نیت ہی فساد اور دھوکے کی ہے۔پس مکر کے نتیجہ میں انسان بعض دفعہ پکڑ سے بھی بچ جاتا ہے اور مکر کے پورے منصوبے میں یہ بات داخل ہوتی ہے کہ اگر میں پکڑا جاؤں تو نکلنے کی یہ راہ ہوگی یہ بھی ایک مکر ہی ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ ڈھیری والے نے آنحضور ﷺ کی پکڑ سے بچنے کے لئے اپنی طرف سے کیسی روحانی بات کی ہے۔یا رسول اللہ ! اللہ کا فعل ! میں بے چارہ کیا کر سکتا تھا۔خدا نے آسمان سے نازل کیا جس مصیبت کو خدا نے آسمان سے نازل کیا بندے کا کیا اختیار کہ اس کی راہ میں حائل ہو جائے۔اس نے بظاہر نیکی کی اور بڑائی کی کتنی بلند رفعت اور بلند پرواز بات کی ہے۔آسمان کی بات کرتا ہے لیکن دھو کہ زمین پر دے رہا ہے۔آنحضور علیہ کے سامنے کوئی چالا کی کام نہیں آسکتی آپ اللہ کے نور سے دیکھتے تھے ایسی باریک نظر تھی ، ایسی روشن نظر تھی کہ ہر اندھیرے کا سینہ چیر دیتی تھی۔پس وہی خدا ہے جو اسی نظر سے آپ کو دیکھ رہا ہے جس نے محمد مصطفے ﷺ کونور کی