خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 599
خطبات طاہر جلدا 599 خطبه جمعه ۲۸ را گست ۱۹۹۲ء آگے بڑھ کر اس میں گہرا ہاتھ آگے داخل کر دیا جب باہر نکلا تو انگلیوں پر نمی لگی ہوئی تھی آپ نے ڈھیری بیچنے والے سے پوچھا کہ اے ڈھیری والے یہ کیا دیکھ رہا ہوں یہ نمی کیسی ؟ تو اس نے بڑی ہوشیاری سے جواب دیا اصابته السماء اسے تو آسمان پہنچا ہے۔سماء بارش کو بھی کہتے ہیں تو مطلب یہ ہے کہ بارش اُتری ہے۔زمین کا گناہ آسمان کی طرف منسوب کر دیا یہ ایک مکر تھا ، وہ ڈھیری بھی مکر کی ایک تصویر تھی اور یہ جواب بھی مکر کا ایک بیان تھا کہ یا رسول یہ کہ میرا کیا قصور ہے آسمان صلى الله پہنچا ہے، آسمان سے بلا نازل ہوئی اُس نے اُسے خراب کر دیا۔اب حضور اکرمہ کا جواب سنیں تو روح وجد میں آجاتی ہے۔فرمایا افلا جعلته فوق الطعام اگر اوپر سے اترا تھا تو اُسے اوپر ہی کیوں نہ رہنے دیا یہ جونمی تھی اوپر کا حصہ چھوڑ کر بیچ میں تو نہیں گھس گئی تھی۔آسمان کی طرف کیوں ظلم منسوب کر رہے ہو یہ تمہارا ظلم ہے اگر اسے اوپر ہی رہنے دیتے تو ٹھیک تھا کوئی بُر انہیں تھا تا کہ لوگ دیکھ لیتے ، لوگوں کو پتا لگتا کہ آسمان نے اس ڈھیری کے ساتھ کیا کیا ہے پھر جو تمہارا مقدر تھاوہ تمہیں ملتا لیکن تم نے اس کو اندر کیا اور نچلے کو اوپر کر دیا یہ الٹ پلٹ کر دینا یہ فساد ہے، یہ دھوکہ ہے، یہ مکر ہے ، پھر فرمایا من غشنا فليس منا جس نے ہمیں دھوکہ دیاوہ ہم میں سے نہیں ہے۔جماعت احمدیہ کے لئے اس میں بڑی گہری نصیحت ہے چھوٹی سی بات ہے بظاہر اور یہ ہمارے معاشرے میں، ہماری اقتصادیات میں روز مرہ کا دستور بنا ہوا ہے۔اس قسم کا دھوکہ تو دھوکہ سمجھا ہی نہیں جاتا لیکن آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں۔جس نے ایسا کام بھی کیا وہ ہم میں سے نہیں صلى الله ہے، جس نے ہمیں دھو کہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔پس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کشتی نوح میں جو عبارت کا رنگ اختیار فرمایا ہے کہ جس نے یہ کیا وہ ہماری جماعت میں نہیں ہے۔جس نے یہ کیا وہ ہماری جماعت میں نہیں ہے یہ انداز آپ نے حضرت اقدس محمد ہے سے ہی سیکھے تھے آپ کی یہ طرز بیان تھی کہ جو یہ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے ، جو یہ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔پس اہل مکر کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کا تعلق رسول اللہ ﷺ سے کاٹا گیا ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ میری جماعت میں سے نہیں ہے تو وہ جماعت صلى الله رسول اللہ ﷺ کی جماعت ہے۔اس کے سوا ہے کیا ؟ اگر رسول اللہ ﷺ کی جماعت نہیں تو اس جماعت کی کوئی بھی حیثیت نہیں ہمٹی کی بھی قیمت نہیں ہے۔پس اس کا تعلق اس فقرے سے جوڑیں الله