خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 588 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 588

خطبات طاہر جلدا 588 خطبه جمعه ۲۱ را گست ۱۹۹۲ء یہ جھوٹ کا مضمون ہے اور جھوٹی قسم کی بات پر پھر آگے یہ بات چل پڑی ہے کہ بہت سے مسلمان ممالک خصوصاً ہندوستان پاکستان اور بنگلہ دیش وغیرہ میں اس وقت یہ صورت حال یہ ہے کہ بھائی کا مال ہتھیانے کے لئے یا غیر کا مال ہتھیانے کے لئے عدالتوں میں بے فکر اور بے دھڑک جھوٹی قسمیں کھائی جاتی ہیں لیکن اس کے نتیجہ میں جو کچھ حاصل ہوگا وہ کیا ہوگا۔ اس سلسلہ میں آنحضرت فرماتے ہیں ۔ حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ آنحضور ﷺ کے پاس دو آدمی آئے جن میں وراثت کی ملکیت کے بارہ میں جھگڑا تھا اور معاملہ پرانا ہونے کی وجہ سے ثبوت کسی کے پاس نہ تھا۔ آنحضرت ﷺ نے ان کی باتیں سن کر فرمایا میں انسان ہوں اور ہو سکتا ہے تم میں سے کوئی زیادہ لسان صلى الله عروسه صلى الله علوسه ۔ ہو اور بات کو بڑے عمدہ انداز اور لہجے میں بیان کر سکتا ہو۔ ۔ صلى الله وہ سوسائٹی جھوٹ سے پاک تھی لیکن جھوٹ کی باریک قسموں میں چرب زبانی کے ذریعہ غلط حق حاصل کرنا کرنا ؟ بھی شامل ہے۔ پس آنحضور ﷺ نے اس بار یک جھوٹ کی قسم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ہو سکتا ہے چرب زبان ہو، عمدہ طریق پر بات بیان کرے اور میں اس سے متاثر ہو کر کوئی رائے قائم کرلوں اور اس کے حق میں کوئی فیصلہ دے دوں حالانکہ حق دوسرے فریق کا ہو۔ ایسی صورت میں اس فیصلہ سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہئیا ور اپنے بھائی کا حق نہیں لینا چاہئے کیونکہ اُس کے لئے وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے جو میں اُسے دلا رہا ہوں ۔ اگر وہ لے گا تو قیامت کے دن وہ سانپ بن کر اُس کی گردن پر لیٹا ہوا ہوگا۔ حضور ﷺ کی یہ بات سن کر دونوں کی چیخیں نکل گئیں اور ہر ایک نے یہ عرض کیا کہ یا رسول الله ! ساری جائیداد میرے بھائی کو دے دیں مجھے کچھ نہیں چاہئے۔ ( ابوداؤد کتاب الاقضیاء حدیث نمبر ۳۱۱۲) کتنا اعلیٰ درجہ کا ایمان تھا ، کیسا یقین تھا ، کیسی محبت حضرت محمد مصطفی سے تھی ، کتنا کامل علي سه صلى الله یقین ان وعید پر تھا جو آنحضور ﷺ کی زبان پر جاری ہوا کرتے تھے کہ قیامت کے دن یہ تمہیں ملے گا۔ ہمارے کتنے قضیئے ہیں اور کس آسانی سے وہ نپٹ جائیں اگر انسان اس حدیث پر نگاہ رکھے اور اپنے معاملات قضا میں پیش کرتے ہوئے واضح جھوٹ تو در کنار ادنی سی چرب زبانی کے ذریعہ بھی غیر کا حق لینے سے اجتناب کیا جائے یہ اگر ہو جائے تو جماعت احمدیہ کی قضاء کا اکثر کام جو ہے وہ ہلکا ہو جائے اور مقدموں تک نوبت ہی نہ پہنچے ۔ دراصل اس مزاج کے لوگ مقدمہ بازی کرتے ہی نہیں ۔ اس تک پہنچتے نہیں ہیں۔ مقدموں سے پہلے پہلے ہی ان کے معاملات نپٹ جایا کرتے ہیں۔