خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 54
خطبات طاہر جلد 54 54 خطبه جمعه ۲۴ /جنوری ۱۹۹۲ء ہم محروم رہتے۔پس اس کے لئے جہاں تک چندوں کا تعلق ہے میں کوئی اور خصوصی تحریک نہیں کرنا چاہتا۔وقف جدید کی تحریک کو آپ مزید تقویت دیں۔اس وقت تک وقف جدید بیرون میں تقریباً ایک لاکھ پاؤنڈ کے وعدے ہو چکے ہیں اور وقف جدید کا قادیان سے یا ہندوستان کی جماعتوں سے جو گہرا تعلق ہے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک اشارے کی صورت میں اس طرح بھی ظاہر ہوا کہ میں نے قادیان میں جلسہ کے دوران پڑھائے جانے والے جمعہ میں یہ بیان کیا تھا کہ جب وقف جدید کے لئے حضرت مصلح موعودؓ نے ربوہ میں پہلا خطبہ دیا ہے تو وہ ۲۷ دسمبر تھی اور جلسہ کا درمیانی دن تھا اور قادیان میں اب جب میں حاضر ہوا تو جلسہ کے عین درمیان میں جمعہ آیا اور وہ ۲۷ / دسمبر کا دن تھا اور اسی دن وقف جدید کا مجھے بھی اعلان کرنا تھا کیونکہ دستور یہی ہے کہ سال کے آخری جمعہ میں اعلان کیا جاتا ہے۔تو اس وقت میری توجہ اس طرف مبذول کروائی گئی کہ یہ تو ارد کوئی خاص معنی رکھتا ہے۔پس یقینا یہ تو ارد اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ وقف جدید کا ایک تعلق تو پاکستان سے تھا جس کا آغاز پاکستان سے کیا گیا لیکن وہ دوسرا تعلق جس کے لئے میں نے تحریک کی تھی یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے رضا یافتہ فعل ہے اور خدا کے منشاء اور تائید کے مطابق ہی ایسا ہوا ہے اور قادیان اور ہندوستان کی جماعتوں کو بھی تمام بیرونی دنیا کے احمدیوں کی غیر معمولی مالی امداد اور قربانی کی ضرورت ہے اور وہ وقف جدید کے راستے سے کی جائے۔چنانچہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اس وقت تک ایک لاکھ پاؤنڈ سالانہ کے وعدے ہو چکے ہیں لیکن جہاں تک میں نے اندازہ لگایا ہے ہمیں قادیان اور ہندوستان پر سالانہ کم از کم ایک کروڑ خرچ کرنا ہوگا اور آئندہ کئی سالوں تک اس کو مسلسل بڑھانے کی کوشش کرنی ہوگی کیونکہ جو تفصیلی منصوبے قادیان کی عزت اور احترام کو بحال کرنے کے لئے میں نے بنائے ہیں اور جو تفصیلی منصو بے ہندوستان میں جماعت کے وقار اور جماعت کی تعداد اور رعب اور عظمت کو بڑھانے کے لئے بنائے ہیں وہ کر وڑ ہا روپے کا مطالبہ کرتے ہیں۔جیسا کہ میں نے جلسہ قادیان میں بھی بیان کیا تھا کہ میرا یہ تجربہ ہے کہ جب بھی ہم کوئی نیک کام خدا کی خاطر ، اس کی رضا کی خاطر شروع کرتے ہیں تو خواہ کتنے بڑے اموال کی ضرورت ہو اللہ تعالیٰ رستے کی سب روکیں دور فرما دیتا ہے اور وہ اموال مہیا ہو جاتے ہیں اور اگر کم بھی ہوں تو ان میں برکت بہت پڑتی ہے اور کبھی بھی میں نے یہ