خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 53 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 53

خطبات طاہر جلد ۱۱ 53 خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۹۲ء گے تو ان پر احسان کے طور پر نہیں بلکہ ان کے احسان کا بدلہ اتارنے کی کوشش میں کچھ کریں گے۔اگر ان کی برکت سے خدا تعالیٰ نے ہمیں مثلاً وسیع رزق عطا نہ بھی کیا ہو تب بھی ان کا حق ہے کہ وہ ساری جماعت کی خاطر ایک فرضِ کفایہ ادا کرتے ہوئے قادیان میں بیٹھ رہے اور انہوں نے بہت ہی عظیم خدمت سر انجام دی ہے لیکن جیسا کہ میں نے آنحضرت ﷺ کی حدیث بیان کی ہے اس میں ادنی سا بھی شک نہیں کہ وہ لوگ جو خدا کی خاطر اسیر ہو جاتے ہیں جیسا کہ پاکستان میں اسیر ہیں جن کو باہر نکلنے کی اس لئے طاقت نہیں کہ زنجیروں نے باندھ رکھا ہے یا جیل خانے کی دیوار میں حائل ہیں یا وہ گیٹ حائل ہیں جن میں سلاخیں جڑی ہوئی ہیں۔وہ بھی اصحاب الصفہ کی ایک قسم ہیں اور قادیان کے وہ درویش خصوصیت کے ساتھ جن پر ظاہری پابندیاں کوئی نہیں ہیں۔کوئی زنجیریں ان کے پاؤں باندھنے والی نہیں۔کوئی ہتھکڑیاں ان کے ہاتھوں کو جکڑنے والی نہیں لیکن ایک فرض کی ادائیگی کے طور پر ایک اعلیٰ مقصد کی خاطر قربانی کرتے ہوئے وہ نسلاً بعد نسل قادیان کے ہور ہے ہیں ان کا حق ہے اور ان کے حقوق ہمارے اموال میں داخل ہیں اور ہماری سہولتوں میں داخل ہو چکے ہیں۔یہ وہ مضمون ہے جو قرآنِ کریم نے ایک دوسری جگہ بیان فرمایا ہے۔جہاں فرمایا وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ (الذاریات: ۲۰) کہ جولوگ امیر ہیں کھاتے پیتے ہیں جن کو آسائشیں عطا ہوئی ہیں ان کے اموال میں سائل کے حق بھی ہیں اور محروم کے حق بھی ہیں۔محروم سے یہاں مراد وہ مسکین ہے جس کی تعریف آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمائی اور یہ تعریف اصحاب الصفہ کے ضمن میں بیان ہوئی تھی۔پس قادیان والے سائل تو نہیں ہیں لیکن بہت سے خاندان محرومین میں داخل ہیں۔ان کے لئے جو تحائف جماعت نے بھجوائے ، بہت ہی اچھا کام کیا اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان سے بہت فوائد حاصل ہوئے لیکن یہ ایسا کام ہے جو مستقلاً با قاعدہ منصوبے کے تحت کرنے والا کام ہے۔وقف جدید کا میں نے جو نیا اعلان کیا تھا کہ وقف جدید کو باہر کی دنیا میں بھی عام کر دیا جائے صرف پاکستان تک محدود نہ کیا جائے۔اس سے اب مجھے معلوم ہوتا ہے کہ در حقیقت اس میں اللہ تعالیٰ کی یہی تقدیر تھی کہ قادیان اور ہندوستان کی محصور جماعتوں کے لئے ہمیں باہر سے بہت کچھ کرنا تھا اور اگر یہ تحریک نہ ہوتی تو بہت سے ایسے اہم کام جو سرانجام دینے کی توفیق ملی ہے ان سے