خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 549
خطبات طاہر جلد ۱۱ 549 خطبہ جمعہ ۷ را گست ۱۹۹۲ء میں بیٹھے ہوتے ہیں ان کے دلوں میں گناہ کے ولولے بھر دیتے ہیں، بڑے ان کے دلوں میں جوش پیدا ہوتے ہیں، بڑی امنگیں پیدا ہوتی ہیں کہ اچھا ہم بھی یہی کر کے دیکھیں گے۔پس آنحضور ﷺ کو جو دین عطا ہوا ہے نہایت ہی متوازن ہے اور اس کی ایک ایک بات صلى الله میں بڑی گہری حکمت ہے۔پس آنحضور یہ نے بڑا احسان فرمایا جب ایک طرف قول سدید کا حکم ہے دوسری طرف مجاہر کے مضمون کو خوب کھول کر سامنے پیش کر دیا۔دیکھو مجاہر نہ بنا اس سے تم بھی گناہ گار ہو گے خدا کے ناشکرے بنو گے اور سوسائٹی میں فحشاء پھیلا دو گے۔میں نے اس پر غور کیا تو مجھے سمجھ آئی ایک بات کی اور حضرت عائشہ صدیقہ کے لئے دل سے بے حد محبت کے درود نکلے کہ ان کی قربانی ساری امت کیلئے ہمیشہ کتنی کام آئی ہے۔اس واقعہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے بعض حقوق قائم فرمائے ہیں ان میں ایک حق ہر شخص کے اپنے نفس کا حق ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی کو حق نہیں ہے کہ کسی پر الزام لگائے اور وہ اگر الزام لگا تا ہے تو اس کا ہر گز فرض نہیں ہے کہ وہ اس کا انکار بھی کرے۔چنانچہ اگر کوئی کسی شخص پر الزام لگا تا ہے، اس نے زنا کیا اس نے یہ گند کیا اس نے وہ گند کیا۔اگر وہ گواہ پیش کرتا ہے جیسا کہ قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے تو معاملے کی چھان بین ہوگی۔ورنہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے یعنی بظاہر سچ بھی بولا ہو تب بھی خدا کے اس قانون سے وہ جھوٹا نکلتا ہے اور جس پر الزام لگایا گیا ہے اس کو کوئی اسلام کی عدالت یہ مجبور نہیں کر سکتی کہ وہ انکار بھی کرے۔اس کے نتیجے میں خدا نے ستاری کا ایک عجیب پردہ ڈال دیا ہے۔ساری امت کے کمزوروں پر ایک عظیم الشان ستاری کا پردہ ہے کہ گناہوں سے بچولیکن اگر تم سے کوئی گناہ سرزد ہوں تو جب تک وہ گناہ اچھیل کر منظر عام پر نہیں آتے کہ خدا کی ستاری کا پردہ پھاڑ کر باہر نہیں آتے۔اس وقت تک کسی کو حق نہیں ہے خدا کی ستاری کا پردہ پھاڑ کر جھانک کر تمہارے اندر دیکھے۔صرف عورت کو حق ہے اور صرف مرد کو حق ہے جو میاں بیوی ہوں۔ان کے لئے فرض نہیں ہے کہ وہ گواہ اکٹھے کرتے پھریں۔ان کو خدا نے حق دیا ہے اگر عورت مرد کو گناہ گار بجھتی ہے تو لعان کر سکتی ہے کہ وہ چار دفعہ قسمیں کھا کر کہہ سکتی ہے کہ میرا خاوند اس گند میں ملوث ہے اگر وہ چار دفعہ قسمیں کھا کر انکار نہیں کرتا تو وہ اس پر جرم کی سزا عائد ہو جائے گی۔یہی حال عورت کا ہوگا اگر مرد جس پر یہ الزام لگائے۔تو میاں بیوی کے درمیان استثناء رکھا گیا ہے اس میں اپنی ذات میں بہت گہری حکمتیں ہیں اور عام سوسائٹی میں یہ جو مجاہر کا لفظ