خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 544
خطبات طاہر جلداا 544 خطبہ جمعہ ۷ را گست ۱۹۹۲ء اس نصیحت میں گہری حکمتیں ہیں وہ لوگ جو جو بچوں سے چھوٹی باتوں پر سختی کرتے صلى الله عليسة ہیں حالانکہ نماز کا ترک سب سے بڑی بات ہے۔ اس پر بھی آنحضور ﷺ نے بہت ہی محدود محدود عمر کے زمانے میں محدود پیمانے میں سختی کی ہدایت فرمائی ہے۔ ایسے لوگ ، ایسے بعض باپ ہوں یا مائیں وہ بچوں کو تباہ کر دیتے ہیں اور بعض ایسے نوجوان میں نے دیکھے ہیں، نو جوان کیا بڑی عمر کے بھی ان کے ا بچپن کی ساری تصویر ان کے اس رجحان سے نظر آجاتی ہے تو بعد میں پوچھو یہ کیا ہوا ؟ ایک دم دل میں خوف پیدا ہوتا ہے اور فوراً بہانہ بنانے کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔اس سے ان بیچاروں کا دردناک بچپن کا منظر سامنے آجاتا ہے کیا بیچاروں پر گزری ہو گی بچپن میں اپنے گھروں میں ، کس طرح چھوٹی چھوٹی باتوں میں ماں باپ نے لعن طعن کی ہوگی یہاں تک کہ عادت پڑ گئی ہے جھوٹ بولنے کی ۔ پس پہلے بہانے بنتے ہیں، پھر جھوٹ اور بہانے انسان کی نظر سے بعض دفعہ ایسی مخفی رہتے ہیں کہ اس کو پتا نہیں لگتا کہ بہانے کب جھوٹ کے بچے پیدا کر دیں گے۔ جس طرح اندھیرے میں بعض دفعہ سنڈیاں پلتی ہیں اور اس کے انڈے کچھ عرصہ تک پرورش پانے کے بعد تلیوں میں تبدیل ہو جایا کرتی ہیں۔ تتلیاں تو پر کے ساتھ اڑتی ہیں مگر جھوٹ کی سنڈیاں بے پر کے اڑتی ہیں اور ساری سوسائٹی میں نفرتیں اور گندگیاں پھیلا دیتی ہیں۔ تو ہو نہیں سکتا کہ آپ جھوٹے ہوں اور خدا سے تعلق قائم ہو جائے ۔ جھوٹے کا جھوٹ سے تعلق قائم ہوگا۔ اسی لئے جھوٹوں کی خوابوں پر اعتبار نہیں ہوتا۔ جب کوئی خواب سناتا ہے تو میری ہمیشہ اس بات پر نظر ہوتی ہے کہ اس کا اپنا مزاج کیسا ہے اگر وہ سچا اور صاف آدمی ہے تو اس کی خواب کو میں بہت عظمت دیتا ہوں اور وہ خواب سادہ ہی ہواگر اور بسا اوقات بہت گہرے پیغام مل جاتے ہیں مگر جس کی روزمرہ کی زندگی کی عادت جھوٹ بولنا لغویات میں زندگی بسر کرنا ہے اس کو خواب بھی آئے گی تو ہوائے نفس کی ۔ اس کا خدا تعالیٰ کے ساتھ شاذ سے تعلق ہوتا ہے۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کسی جھوٹے کو سچی خواب نہیں آسکتی ہے لیکن شاذ کے طور پر ہوتا ہے۔ اکثر جھوٹے کو جھوٹی خوابیں ہی آتی ہیں اور اکثر بچوں کو سچی خوابیں آتی ہیں۔ تو اس لئے تعلق باللہ کیلئے جھوٹ سے تبتل اختیار کرنا ضروری ہے تب اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم ہوگا۔ کچھ جھوٹوں کے لئے جو ایک اپنے ذاتی دفاع کے لئے نہیں بلکہ منفعتوں کیلئے بولے جاتے ہیں جیسا کہ میں نے مثال دی تھی۔ کسی جگہ کوئی فائدہ پیش نظر ہو اور سچ سے کام نہ بنتا ہو تو عام آدمی