خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 525 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 525

خطبات طاہر جلد ۱۱ 525 خطبہ جمعہ ۳۱ / جولائی ۱۹۹۲ء آیا تھا۔پس سب سے آخر پر آپ نے یہ جو دودھ نوش فرمایا تو بتایا کہ تم سب میں سب سے زیادہ اس آیت کے مضمون کو اور اس کی حکمتوں کو سمجھنے والا میں ہوں اور میں ہی وہ ہوں جو قرآن کو اپنی رگ رگ میں جاری کر چکا ہے۔پس ہم سے جو توقعات ہیں وہ تو اتنی بلند ہیں کہ کہاں یہ بات کہ کیوں یہ کھڑے ہیں، دھکا نہ دو۔کہاں یہ عظیم تعلیم جس کی کوئی مثال دنیا کے مذاہب میں کہیں اور دکھائی نہیں دیتی۔اس تعلیم کو ہمیں اپنا نا ہے اور اسی تعلیم کو ہم نے دوسروں میں پیش کرنا ہے اس لئے کھانے کے موقع پر یا کسی اور موقع پر اپنی غرض کو غیروں کی غرض پر ترجیح نہ دیں، ہمیشہ کوشش کریں کہ آپ اپنے بھائی کا خیال رکھیں۔یہ تعلیم تھی جو حضرت اقدس محمد مصطفی امی ﷺ نے اس تفصیل کے ساتھ اور اس گہرائی کے ساتھ اپنے غلاموں کے رگ و پے میں پیوستہ کر دی تھی کہ اُن کے خون میں دوڑنے لگی ، بڑے سے بڑے ابتلاؤں کے وقت بھی وہ اس تعلیم کو نہیں بھولے۔حضور اکرم کی غالبا زندگی کا ایک واقعہ ہے کہ ایک غزوے میں کچھ صحابہ زخمی ہوئے اور پیاس کی شدت سے کیونکہ گرمیوں کے دن تھے ، زخموں کے علاوہ بہت بڑے ابتلاء میں پڑے ہوئے تھے کہ ایک گھونٹ پانی کو ترس رہے تھے ایسے موقع پر ایک مشکیزہ لئے ہوئے خدمت کرنے والا وہاں پہنچا اس نے کسی سے کہا منہ کھولو میں تمہیں کچھ پانی پلا دوں۔اُس کی نظر اپنے قریب سکتے ہوئے ایک اور بھائی پر پڑی اُس نے اس حالت میں اس کی طرف اشارہ کیا کہ تم میرے بھائی کو پانی پلاؤ پھر میری طرف آنا اور یہ عجیب واقعہ ہے جو تاریخ اسلام نے درج کیا ہے۔جب وہ اُس کے پاس پہنچا تو اس کی نظر اپنے ایک اور بھائی پر پڑی تو اُس نے اس کی طرف اشارہ کیا۔کتنی دفعہ یہ ہوا ہم نہیں کہہ سکتے مگر وہ ساقی بیان کرتا ہے کہ جب میں اُس آخری شخص پر پہنچا تو وہ دم توڑ چکا تھا۔جب میں واپس لوٹا ہوں تو بعض اُن میں سے ایسے بھی تھے جنہوں نے پانی پیا لیکن وہ شخص جس نے پہلے بھیجا تھا وہ میرے پہنچنے سے پہلے دم توڑ چکا تھا تو حاجت کی ایسی شدت کے وقت بھی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی تعلیم اور آپ کے اسوہ کو نہیں بھلایا۔پس ان چھوٹی چھوٹی آزمائشوں میں اگر آپ پورے نہ اترے کیسے دنیا کے مربی بنیں گے، کیسے دنیا کے معلم بنیں گے۔آپ نے تو ساری دنیا کو اسلام کی اعلیٰ تعلیم سکھانی ہے۔پس ایسے مواقع جب اجتماع ہوتے ہیں جب اکٹھے کھانے کھائے جاتے ہیں تو اُن میں اسلامی اخلاق اپنی پوری شان کے ساتھ