خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 524
خطبات طاہر جلدا 524 خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۹۲ء الله صلى الله اور آواز دو کہ کوئی بھوکا ہے تو آ جائے ۔ چنانچہ آپ ۔ ئے ۔ چنانچہ آپ نے آواز دی اور ایک بھو کا مل گیا اور پھر اور آواز دی ، پھر اور مل گیا پھر اور آواز دی ، پھر اور مل گیا یہاں تک کہ بیان کیا جاتا ہے کہ سات آٹھ اور بھو کے بھی ابو ہریرہ کے ساتھ شامل ہو۔ ر شامل ہو گئے اور آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ کے پاس ایک دودھ کا پیالا تھا آپ تشریف فرما ہوئے اور ابو ہریرہ کو اپنی بائیں طرف بٹھا لیا۔ بائیں طرف بٹھانے میں ایک گہری حکمت تھی کیونکہ اسلامی رواج کے مطابق جب مہمانوں کو کھانا پیش کیا جاتا ہے تو دائیں طرف سے شروع کیا جاتا ہے، دائیں طرف دوسرے تھے اور ابو ہریرہ کی باری سب سے آخر پر آنی تھی۔ چنانچہ آنحضور ﷺ نے اپنی دائیں طرف بیٹھے ہوئے غریب مہمان کو فرمایا کہ دودھ پیو جب اُس نے پیا اور اُس کا پیٹ بھر گیا تو آپ نے فرمایا کچھ اور پیو۔ ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ جب میں سنتا تھا کچھ اور پیو تو میری جان نکل جاتی تھی ، پھر دوسرے مہمان کی باری آئی، پھر اُس کے ساتھ بھی یہی ہوا، پھر تیسرے مہمان کی باری آئی پھر اُس کے ساتھ بھی یہی ہوا، پھر چوتھے مہمان کی باری آئی پھر اُس کے ساتھ بھی یہی ہوا، یہاں تک وہ پیالا حضرت ابو ہریرہ تک پہنچا۔ آپ کہتے ہیں کہ خدا کی قسم اس میں دودھ موجود تھا میں نے پیا اور اتنا پیا کہ میں سیر ہو گیا۔ تب آنحضور ﷺ نے فرمایا ابو ہریرہ کچھ اور پیو۔ پھر میں نے کچھ اور پیا۔ پھر فرمایا ابوہریرہ کچھ اور پیو، پھر میں نے کچھ اور پیا۔ کہتے ہیں یہاں تک کہ خدا کی قسم یوں لگتا تھا کہ میرے ناخنوں تک سے دودھ بہہ پڑے گا۔ تب میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ بس ۔ اس وقت حضور اکرم نے وہ پیالا خود پکڑا اور بقیہ دودھ خود نوش فرمایا۔ ( بخاری کتاب الرقاق حدیث نمبر : ۵۹۷۱) یہ واقعہ بہت ہی عظیم واقعہ ہے۔ اس آیت کی ایسی تفسیر ہے جس پر کسی عالم کی کبھی نظر نہیں پہنچی۔ ایثار سکھا رہے تھے، اُس آیت کی حقیقت بیان فرما رہے تھے، وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ بھوک کی شدت سے تم کیسے ہی بے تاب کیوں نہ ہو دوسروں کو ترجیح دو۔ تو ابو ہریرہ جو دوسروں سے پوچھتے تھے کہ اپنی بھوک مٹانے کے لئے آپ نے اُن کو برتر مقام پر فائز کر دیا، وہ اپنی بھوک کو قربان کرتے ہوئے دوسروں کو کھانا کھلانے والے بن گئے ۔ یہ انہی کا فیض تھا جو حضور اکرم سے اُن کو پہنچا کہ ان سب کے اوپر بھوکوں کے لئے اس آیت کریمہ کی ایک مجسم تفسیر بن گئے اور سب ، اور سب سے زیادہ بھوک میں مبتلا ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی علیل تھے ، وہ دودھ جو آپ کو آیا تھا وہ آسمان کی طرف سے آپ کو بھیجا گیا تھا۔ آپ کی بھوک مٹانے کے لئے عروسه