خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 523
خطبات طاہر جلد ۱۱ 523 خطبہ جمعہ ۳۱ / جولائی ۱۹۹۲ء وہ واقعہ جو آپ نے بار ہا سنا ہوا ہے اس ضمن میں ایک عجیب مثال ہے۔ایک موقع پر حضرت ابو ہریرہ بھوک کی شدت سے نڈھال ہو گئے کیونکہ حضرت ابو ہریرہ کا یہ دستور تھا کہ مسجد کا در نہیں چھوڑتے تھے ، آنحضرت ﷺ سے ایسی محبت تھی کہ مسجد کا دامن پکڑ کر بیٹھ رہے کہ کسی وقت آنحضور اپنے گھر مسجد کی طرف نکلیں کوئی بات فرما ئیں تو اُس سے وہ استفادہ کرسکیں اور اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔دیر میں اسلام قبول کیا تھا اس لئے اس کی گزشتہ کوتاہیوں کا ازالہ اس رنگ میں کیا کہ اصحاب الصفہ میں شامل ہوئے اور ہمیشہ کے لئے مسجد کے ہو کر رہ گئے۔بعض دفعہ فاقوں سے حالت یہاں تک پہنچ جاتی تھی کہ بے ہوش ہو جایا کرتے تھے۔لوگ سمجھتے تھے کہ مرگی کا دورہ پڑ گیا ہے اور عربوں میں رواج تھا کہ بعض دفعہ مرگی والے کو ہوش میں لانے کی خاطر پرانی گلی سڑی جوتیاں سنگھایا کرتے تھے محض اللہ بے ہوش ہو کر مسجد کے صحن میں پڑا ہوتا تھا اُسے بعض لوگ جوتیاں سنگھایا کرتے تھے۔ایک موقع پر حضرت ابو ہریرہ کو تکلیف زیادہ برداشت نہ ہوئی تو انہوں نے قرآن کریم کی ایک آیت کو اپنی طلب کا ذریعہ بنالیا۔بعض آنے جانے والوں سے اُنہوں نے پوچھنا شروع کیا کہ ذرا بتاؤ تو سہی اس آیت کی کیا تفسیر ہے؟ وہ آیت یہ تھی وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ (الحشر:(۱۰) کہ وہ لوگ ایسے ہیں یعنی مومن اپنی ضروریات پر غیروں کی ضروریات کو ترجیح دیتے ہیں غیروں کی ضروریات پر اپنی ضرورتوں کو ترجیح نہیں دیتے بھوک ہو تو تب بھی وہ دوسروں کو کھانا کھلانے کے زیادہ فکر مند ہوتے ہیں، یہ وہ مضمون ہے جس کا اس آیت کریمہ سے تعلق ہے۔تو ایک صحابی آئے اور وہ تفسیر کر کے آگے گزر گئے ، پھر ایک صحابی آئے وہ تفسیر کر کے آگے گزر گئے پھر ایک اور صحابی آئے وہ تفسیر کر کے آگے گزر گئے۔حضرت اقدس محمد مصطفی میں اپنے حجرے میں یہ باتیں سن رہے تھے۔بالآخر دیکھا کہ کسی کو اس آیت کی تفسیر سمجھ نہیں آئی اور تفسیر پوچھنے والے کا مدعا معلوم نہیں ہوا۔باہر تشریف لائے اور کہا کہ ابو ہریرہ بھو کے ہو؟ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اس کی تفسیر کیا ہے؟ میرے پاس کچھ دودھ آیا ہے اللہ تعالیٰ نے کہیں سے بھجوایا ہے تمہاری طرح اور بھی بھوکے ہوں گے جاؤ اور تلاش کرو کہ کوئی اور بھوکا ہے تو اُس کو بھی ساتھ لے آؤ۔ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے جب یہ سنا تو میرا دل دہل گیا۔ایک پیالا دودھ کا ہو گا لیکن مجھے اتنی بھوک لگی ہے کہ یہ دودھ کا پیالا تو مجھے بھی پورا نہیں آسکے گا اور آنحضرت نے فرمایا ہے کہ جاؤ