خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 522
خطبات طاہر جلداا 522 خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۹۲ء پڑی چیزوں کو اٹھائے اور چلنے پھرنے والے لوگوں کو اور اپنے دوسرے بھائیوں کو ان چیزوں کی تکلیف سے بچائے۔ اس کو اگر آپ پوری طرح سمجھ لیں کہ یہ کیا بات فرمائی گئی ہے تو آپ کی عقل دنگ رہ جائے گی کہ جس تعلیم کا ادنی شعبہ یہ ہے اُس کے اعلیٰ شعبے کیا ہوں گے۔ ادنی شعبہ یہ نہیں کہ یہ کے اعلیٰ آپ نے کوئی تکلیف دہ چیز باہر نہیں پھینکی۔ ادنی شعبہ یہ ہے کہ لوگوں کی پھینکی ہوئی چیزیں اٹھانی ہیں اور تکلیف کی چیزوں سے رستوں کو بچانا ہے۔ اس ضمن میں اور بھی بہت سی تعلیمات ہیں مثلاً یہ کہ رستے کے حقوق میں یہ بھی ہے کہ رستوں پر کھڑے ہو کر کہیں نہ لگایا کرو۔ مسافروں کا حق ہے کہ رستوں سے گزریں اگر تم ٹولیاں بنا کر وہاں کھڑے ہو جاؤ اور گپ شپ میں مصروف ہو جاؤ تو چلنے والوں کو تکلیف پہنچے گی اس لئے وہ تمام راستے جو اس غرض سے بنائے جاتے ہیں کہ وہاں لوگ چلیں اور اپنے اپنے مقاصد تک پہنچیں اُن صلى الله عروسه رستوں کو کھلا رکھنا اور صاف رکھنا یہ ہماری ان توقعات میں شامل ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی نے اپنی امت سے یہ فرما کر کئے ہیں کہ ادنی توقعات ہیں باقی سب توقعات ان سے اونچی اور بالا ہیں ۔ پس ہمیں ادنی توقعات پر بھی پورا اترنا ہے اور بالا توقعات پر بھی پورا اترنا ہے۔ صلى الله حضرت اقدس محمد مصطفی نے کھانے کے بھی آداب سکھائے ہیں اور ایسے عظیم آداب ہیں کہ جہاں تک میں نے تفصیلی نظر ڈال کر دنیا کی مہذب قوموں کو دیکھا ہے آج تک اُن قوموں میں میں نے بھی وہ اخلاق اُس شان سے رائج نہیں ہو سکے۔ اس کی تفصیل میں یہاں جانے کا تو وقت نہیں لیکن چند ایک باتیں جو جلسے کے موقع سے تعلق رکھتی ہیں وہ میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ کھانے کے وقت ایک دوسرے سے چھینا جھپٹی کرنا یا دھکے دے کر پہلے پہنچنے کی کوشش کرنا اس کا اسلام میں کوئی مقام نہیں ہے۔ اسلام کے تصور میں ایسی حرکت کی کوئی جگہ ہی نہیں ہے بلکہ ایثار کی تعلیم ہے۔ جب بھی کہیں کھانے کی چیز کو دیکھتے ہو تو سب سے پہلے تمہیں اپنے بھائی کا خیال آنا چاہئے خواہ بھوک سے تمہاری کیسی ہی بری حالت کیوں نہ ہو۔ اپنے بھائی کو اپنے اوپر ترجیح دو اُسے کہو کہ پہلے آپ تشریف لائیں اس سے پہلے آپ فائدہ اٹھائیں پھر میں بھی ایسا کروں گا۔ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ نے اس تعلیم کو اپنے عمل کے ذریعے ایسے بلند اور ارفع مقام تک پہنچایا کہ انسان اُس مقام کی طرف دیکھے تو پگڑی گرتی ہے، سر سے ٹوپی گرتی ہے۔