خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 521
خطبات طاہر جلد ۱۱ 521 خطبہ جمعہ ۳۱ / جولائی ۱۹۹۲ء وجہ غربت ہے۔غربت کے نتیجے میں بعض بدیاں خود بخود پیدا ہو جاتی ہے۔اس پہلو سے جب آپ کو دیکھیں گے تو جماعت احمدیہ کے عالمی نمائندہ کی حیثیت سے دیکھیں گے۔اگر آپ میں وہ بد عادتیں جو غیر ارادی طور پر آپ میں جگہ پاگئی ہیں اُن کو پیچھے اپنے ملک میں نہ چھوڑا اور یہاں ساتھ لے چلے آئے ، یہاں رہتے ہوئے بھی آپ نے ویسی ہی بے پروائی کا ثبوت دیا تو اس سے جماعت کے نام کو نقصان پہنچے گا۔پس یہ بھی وہ خاص چیز ہے جسے آپ کو کوشش کے ساتھ پیش نظر رکھنا چاہئے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے چودہ سوسال پہلے جو ہمیں تعلیم دی تھی وہ انسانی زندگی کے دلچسپی کے ہر پہلو میں بلند ترین تھی، سب سے اعلی تھی اور صفائی کے بھی ایسے باریک راز آپ نے ہمیں سمجھائے کہ آج تک دنیا کی ترقی یافتہ قومیں بھی اُس معیار تک نہیں پہنچیں۔یہاں زیادہ سے زیادہ زور اس بات پر دیا جاتا ہے کہ تم کوئی گندی یا فضول چیز سڑکوں پر، پبلک جگہوں میں نہ پھینکو، جوڈ بے اس کام کے لئے مقرر کئے گئے ہیں اُن میں ڈالو۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی تعلیم آج سے چودہ سو سال پہلے اس سے بہت آگے نکل چکی تھی۔آپ نے فرمایا رستوں کے حقوق ہیں، رستوں کے حقوق ادا کرو ( بخاری کتاب الاستیذان حدیث نمبر : ۲۲۸۵) اور ایمان میں یہ بات داخل ہے کہ اگر رستہ پر کوئی بھی ایسی چیز جس سے نظر کو یا کسی اور چیز کو یا انسان کو کسی رنگ میں تکلیف پہنچتی ہو آزار کی چیز خواہ وہ کسی پہلو سے تعلق رکھتی ہو اُس کو اٹھاؤ اور اُس کو رستوں سے دور کر دو۔مومن کی صفائی کا معیار محض یہ نہیں ہے کہ وہ گندگی نہ پھیلائے بلکہ مومن کی صفائی کا معیار یہ ہے کہ وہ گندگی جو دوسروں نے پھیلائی ہے وہ اُس کو دور کرے۔پس اگر چہ یہاں ہماری طرف سے، انتظامیہ کی طرف سے بعض ایسے خدام متعین ہیں کہ جو رستے میں پڑی خراب چیزوں کو اٹھائیں گے اور مناسب جگہوں تک انہیں پہنچائیں گے ، ان کی صفائی کا انتظام کریں گے لیکن میں ہر احمدی سے یہ توقع رکھتا ہوں اس لئے کہ وہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا غلام ہے، اس لئے کہ وہ آج آنحضور ﷺ کا سفیر بن کر یہاں آیا ہے، اس لئے ہر ایک اس بات کا خیال رکھے کہ ایذاء کی چیزوں سے رستوں کو اور پبلک جگہوں کو صاف و پاک کرے۔جہاں کوئی خراب چیز گری پڑی دیکھے۔اُس کو اٹھا کر مناسب جگہ تک پہنچائے تا کہ جو عام صفائی کے معاملات ہیں ہمارے لئے عبادت بن جائیں کیونکہ آنحضرت ﷺ نے اس عادت کو ایمان کا آخری شعبہ قرار دیا ہے۔فرمایا ایمان کے ستر درجے ہیں ان میں سب سے ادنی درجہ یہ ہے کہ انسان رستے میں گری