خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 513
خطبات طاہر جلدا 513 خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۹۲ء ہو گئیں ہیں اُسے ملے ہوئے اس نیت سے ہم آئے ہیں کہ وہاں جائیں اور اپنی روحانی پیاس بجھائیں ، وہ جب یہاں آتے ہیں تو اُن میں بعض کہتے ہیں جب روحانی پیاس بجھ رہی ہے تو جسمانی پیاس بھی ساتھ ہی بجھ جائے اور یہیں اسائکم لے لیا جائے۔بعض پھر آ کر مجھ سے پوچھتے ہیں اور اجازت بھی لیتے ہیں کہ کیوں نہ فائدہ اُٹھا ئیں اور ساتھ ہی اسائکم بھی لے لیں۔میں اُن سے کہتا ہوں کہ خدا کا خوف کرو اگر فائدہ اٹھانا ہے تو جماعت سے باہر نکل کر اٹھاؤ۔جس احمدی کے دل میں جماعت کی ناموس کا خیال نہیں ہے، اس کے وعدے کا پاس نہیں ہے، جماعت کی عزت کو اپنے چند کوڑی کے فائدوں کے لئے پاؤں تلے روندنے پر آمادہ ہے تو اس کا جماعت سے کوئی تعلق نہیں اور یہ ایسی سزا نہیں ہے جو فوراً معاف ہو جائے یہ بھی معافی نہیں ہوگی کیونکہ تم نے ساری زندگی کا سودا کر لیا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ دنیا کے عارضی چند ٹکوں کی خاطر اعلیٰ اقدار کے سودے نہ کیا کرو۔پس وہ لوگ جنہوں نے ساری زندگی کا سودا کر لیا ہے انہوں نے تو شیطان کے پاس اپنے آپ کو بیچ دیا اُن کا پھر کبھی جماعت سے کوئی تعلق نہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اُن کے ساتھ پھر دنیا میں کیا سلوک ہو گا لیکن اُس دنیا میں بھی جہاں تک میں قرآن کریم کا پیغام سمجھتا ہوں اللہ کی مرضی ہے جس کو چاہے معاف کرے مگر ایسے لوگ بالعموم قبول نہیں کئے جائیں گے۔اس لئے آپ خدا کا خوف کریں اور میز بانوں سے بھی مناسب وقت کے اندر ایسے وقت میں رخصت ہوں کہ جب آپ رخصت ہورہے ہوں تو وہ شکر نہ کریں بلکہ اُن کے دل غم سے بھرے ہوئے ہوں جب آپ آئیں تو ان کے دل خوشیوں سے معمور ہوں جب آپ جائیں تو رور ہے ہوں۔ویسی ہی کیفیت ہو جیسے کسی نے ایک بچے کے متعلق ایک شعر کہا ہے کہ اے انسان تو ایسی حالت میں دنیا میں آیا کہ سب خوش تھے اور تو اکیلا رورہا تھا۔اس طرح دنیا سے جانا کہ تو اکیلا خوش ہو اور سب رور ہے ہوں۔تو اے آنے والے مہمانو ! اس سے سبق سیکھو اس حالت میں آؤ کہ اپنے گھروں کو یاد کر کے جیسے بھی تمہیں تکلیف ہو تو بے شک رودو لیکن کھلے ہاتھوں تمہارا استقبال کیا جائے جہاں جاؤ وہاں کے گھروں کو خوشیوں سے بھر دو اور ایسے اخلاق کا مظاہرہ کرو کہ جب روانہ ہو تو تم خوش ہو کہ میں نے ایک بوجھ اُتار دیا اور تمہیں رخصت کرنے والے رور ہے ہوں کہ آئندہ جب بھی تم آؤ کھلے ہاتھوں کے ساتھ تمہارا استقبال کیا جائے خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔(آمین)