خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 512 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 512

خطبات طاہر جلدا 512 خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۹۲ء سمجھاؤں کہ بہت ہو گیا، ہم لوگ تھک گئے ہیں اتنی لمبی عادت نہیں ہے، تکلیف ہو رہی ہے لیکن وہ جانے کا نام ہی نہیں لیتے وہ ایسی ہی کیفیت ہو جاتی ہے جیسے ایک عرب شاعر کا یہ شعر جو میں پڑھ کر سُناؤں گا ایک کہانی میں جڑا گیا ہے کہ ایک صاحب جن کو بہت کھانے کی عادت تھی وہ ایک دفعہ کسی سفر میں روانہ ہوئے رستے میں کسی کے ہاں ٹھہرے اور وہ اتنا کھاتے تھے کہ جب میزبان روٹی لے کر آتا تھا اور سالن کے لئے دوڑتا تھا تو سالن آنے تک روٹی کھا چکے ہوتے تھے اور جب وہ روٹی کے لئے دوڑتا تھا تو وہ روٹی آنے تک سالن کھا چکے ہوتے تھے اور ایسا کئی بار ہوتا تھا اور وہ جانے کا نام بھی نہیں لے رہے تھے۔تو میزبان نے اشارہ اُن کو یاد دلانے کے لئے کہ آپ نے روانہ بھی ہونا ہے کہ نہیں اُن سے پوچھا کہ آپ کہاں تشریف لے جارہے ہیں، کس طرف کا ارادہ تو ہے انہوں نے کہا کہ بات یہ ہے کہ ایک حکیم کا نام سُنا ہے کہ معدہ کا بہت اچھا علاج کرتا ہے مجھے بھوک نہیں لگتی تو میں اس کی طرف جارہا ہوں تو اس نے کہا ٹھیک ہے میں سمجھ گیا ہوں لیکن جب آپ واپس تشریف لائیں تو میری ایک درخواست ہے اُسے ذہن نشین کر لیجئے۔يا ضيفنا ان عدتنا لوجدتنا نحن الضيوف وانت رب المنزل کہ اے ہمارے معزز مہمان جب تو دوبارہ ہماری زیارت کرے تو اس حال میں تو ہمیں پائے گا کہ ہم تیرے مہمان ہوں گے اور تو ہمارا میزبان ہو گا۔یہاں بعض گھرانوں کی واقعہ ایسی ہی کیفیت ہو جاتی ہے کہ گھر والے تو بیچارے مہمان بن کر رہتے ہیں اور مہمان میزبان بن چکے ہوتے ہیں۔بار بار سمجھایا گیا ہے آنے والوں کو لکھ کر بھی نصیحتیں کی گئی ہیں کہ خدارا ان باتوں کا خیال رکھو اور وقت کے اوپر جاؤ اور صرف میزبانوں کے لحاظ سے نہیں حکومت کے لحاظ سے بھی جماعت نے جو وعدے کئے ہیں ان کا پاس کرو کیونکہ ایک فرد کی عزت بھی بڑے احترام کے لائق چیز ہے لیکن جماعت کی عزت اتنی بالا اور اتنی وسیع ہے اور اس کی اتنی قدر قیمت ہونی چاہئے کہ اس کے مقابل پر ہر انسان کی ذاتی ضرورتیں قربان ہو جانے کے لائق ہیں لیکن جماعت کی عزت اور نام کو قربان نہیں کرنا چاہئے۔چنانچہ وہ لوگ جو انگریزی حکومت سے یہ کہہ کر ویزا لیتے ہیں کہ ہم ایک مقدس جلسہ پر جارہے ہیں اپنے امام کو دیکھے ہوئے ترس گئے ، مدتیں