خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 511 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 511

خطبات طاہر جلدا 511 خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۹۲ء کچھ نہیں پتا لگ رہا اور بچی کی شادی کا وقت بھی قریب آرہا ہے کچھ پتا نہیں وہ پیسے کہاں گئے؟ پھر میں اُن کو لکھتا ہوں، تلاش کرتا ہوں اور بسا اوقات سختی بھی کرنی پڑتی ہے۔یہ واقعہ نہیں ہونا چاہئے احمدیوں میں یہ بات بہت ہی بیہودہ اور نا مناسب ہے کہاں اعلیٰ اخلاق کے مظاہرے ہو رہے ہوں اور کہاں ایسی بددیانتی اور بدنصیبی کہ جس کے ہاتھ کی روٹی کھا کر گئے ہوں اسی کے ساتھ دھو کہ اور اسی پر ظلم یہ تو بہت ہی زیادہ سفا کی ہے، عام حالات میں جماعت کو مالی لین دین میں بہت زیادہ احتیاط کرنی چاہئے۔کئی دفعہ میں نے خطبات میں نصیحت کی ہے اور یہ اللہ کا احسان ہے کہ دن بدن جماعت اس معاملہ میں سدھر رہی ہے۔کئی ایسے لوگ ہیں جو پیشہ ور لین دین میں خرابی کرنے والے ہیں وہ تو ابھی بھی ہیں۔ان کے لمبے پیشے ہو چکے ہیں ان کی عادتوں میں یہ مرگی کی بیماری ایسی پڑگئی ہے کہ اب رکتی نہیں مگر اللہ کے فضل سے عام معاشرے میں اس بات کا بہت احساس پیدا ہو چکا ہے اور خدا کے فضل سے احمدی اپنے دیگر معاشرے کے ساتھیوں کے مقابل پر لین دین میں زیادہ صاف ستھرا ہے اور خیال رکھتا ہے اور میری دعا یہ ہے کہ کوئی بھی احمدی ایسا نہ ہو جو لین دین میں بد معاملگی کرے کیونکہ اس کے بہت بد اثرات مترتب ہوتے ہیں اور لین دین میں بد دیانتی کرنے والوں کی اولادیں بھی ناپاک ہو جاتی ہیں ان میں بے برکتیاں پڑتی ہیں اور وہ پھر بہت دکھ اُٹھاتے ہیں۔بعض ایسے ہیں جنہوں نے آخر پر اپنی ساری جائیداد میں لٹا دیں اور کنگال ہو کر بیٹھ رہے اس لئے کہ جب وقت تھا لوگوں کو لوٹا کھایا پیا اور بعد میں سر چھپاتے پھرتے ہیں، بھاگتے پھرتے ہیں کہیں ان کو پناہ نہیں ملتی، جھوٹ پر جھوٹ بولنا پڑتا ہے، ساری زندگی برباد ہو جاتی ہے۔تو خدا کی پکڑ تو آتی ہے مگر اس کے آنے سے پہلے بچ جانا چاہئے۔خدا کی خاطر اور قوم کے نام کی خاطر کیونکہ اس قوم کے اخلاق کو دیکھ کر بہت سے ہدایت پانے والے ہدایت پاتے ہیں اس خاطر کہ لین دین کے معاملات میں صاف ستھرے ہو جائیں کہ اللہ کے لئے اگر ہم اپنے اخلاق سنواریں گے تو اللہ کے لئے آنے والوں کے لئے آسانی پیدا کریں گے پس آپ لین دین کے معاملہ میں صاف ستھرے ہو جا ئیں آپ کے متعلق کبھی کسی قسم کی شکایت نہیں آنی چاہئے۔ایک بات یہ ہے کہ جب آتے ہیں تو پھر جانے کا بھی نام لیا کریں۔بعض ایسے آتے ہیں کہ آکے پھر وہیں کے ہو رہتے ہیں اور میزبان کو کچھ سمجھ نہیں آتی کہ میں کیا کروں کس طرح ان کو