خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 510 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 510

خطبات طاہر جلد ۱۱ 510 خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۹۲ء ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ حضرت محمد مصطفے ہی ہے جب تم لوگوں کو کھانے پر بلایا کریں تو گپ شپ میں مصروف ہو کر نبی کو تکلیف نہ دیا کرو۔آپ اندازہ کریں کہ آنحضرت ﷺ کا کتنا گہرا احترام آپ کے غلاموں کو تھا لیکن گپ شپ کی عادت ایک ایسی گہری عادت ہے کہ جس قوم میں پڑ جائے وہ احترام کے باوجود بھی باز نہیں رہ سکتی اگر ایسا نہ ہوتا تو قرآن کریم میں خدا تعالیٰ کو واضح طور پر یہ نصیحت کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔آج روز مرہ کے تعلقات میں تو وہ احترام تو کوئی کردار ادا نہیں کر رہا جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں کیا کرتا تھا اس کے باوجود یہ حال تھا۔تو یہاں تو ایسا ہوگا کہ بعض دفعہ ساری ساری رات بیٹھ کر گپیں ماری جائیں گی اور صبح ہو جائے گی اور جن بچارے لوگوں نے کام پر جانا ہے اُن کو مصیبت وہ اپنے اخلاق کے مظاہرے میں اس خیال سے کہ مہمان یہ نہ سمجھیں کہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ساتھ بیٹھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔تو وقت پر اُٹھا کریں وقت پر سویا کریں اور گئیں مارنی ہیں تو الگ ہو کر کسی باہر کی جگہ پر ماریں لیکن واپسی کے اوقات کا پھر بھی خیال رکھنا ہوگا کیونکہ وہ لوگ جو کسی کے ہاں مہمان ٹھہرتے ہیں اور یہ بتائے بغیر اپنی شاپنگ کے لئے چلے جاتے ہیں کہ ہم نے کھانا باہر کھانا ہے اور پھر دیر سے آتے ہیں اور ان کا انتظار ہوتا رہتا ہے یا رات کو دیر میں آئے اور جگایا اور تنگ کیا کہ ہم فلاں جگہ سیر کے لئے چلے گئے تھے ، وہ اپنے میز بانوں کے لئے بڑی پریشانی کا موجب بنتے ہیں۔سیریں اپنی جگہ اور انسانی حقوق اپنی جگہ کسی کا حق تلف کر کے آپ کو سیر کرنے کا حق نہیں ہے۔حقوق ادا کریں پھر یہ نفلی کام ہیں جیسے چاہیں کریں۔قرض لینے سے حتی المقدور پر ہیز کریں کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ باہر سے آنے والے بہت سے یہاں آکر مہمانی کا لطف بھی اُٹھاتے ہیں اور پھر وقتا فوقتا قرض بھی لے جاتے ہیں اور بسا اوقات یہ کہہ دیتے ہیں کہ آپ کی بچی کی شادی ہے ہم آپ کو وہاں سے کیوں نہ جہیز بنادیں، وہاں بہت اچھا زیور بنتا ہے، وہاں بہت اچھے کپڑے سلتے ہیں۔یہاں جو پچاس پاؤنڈ میں آپ کو جوڑا ملتا ہے وہ کراچی لاہور میں دس دس پاؤنڈ میں مل جاتا ہے۔ایسی باتیں کرتے ہیں اور یہاں کے بیچارے سادہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بہت اچھا موقع ہے پھر کب نصیب ہو گا وہ اُن کے سپر در تمیں کر دیتے ہیں اور بعد میں اس وقت مجھے پتا چلتا ہے جب سال کے بعد یا دو سال کے بعد یہ چٹھی آتی ہے کہ فلاں صاحب آئے تھے ہم نے تو یہاں خدمت کی، خاطر کی لیکن وہاں سے جواب بھی نہیں آرہا کہاں غائب ہو گئے