خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 509
خطبات طاہر جلدا 509 خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۹۲ء ٹوٹ جاتے ہیں اور الٹے لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔پس ایک تو اس بات کا خیال رکھیں۔دوسرے اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ کے میز بانوں کے بچوں کے ساتھ مل کر قیامت برپا نہ کریں۔بچوں کی فطرت میں یہ بات ہے کہ اکیلے گھر کے بچے اگر ایک درجے کا شور کر سکتے ہیں تو دو گھروں کے بیچے گیارہ یا بیس یا بائیس درجہ کا شور کر سکتے ہیں اور دونوں کو کھل کر کھیلنے کی چھٹی مل جاتی ہے کیونکہ اس خیال سے کہ دوسرے ماں باپ برا نہ منائیں۔دونوں کے ساتھ نرمی برتی جاتی ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جس کے گھر پر یہ بچے قیامت ڈھا دیتے ہیں اُن کی کوئی چیز سلامت نہیں رہتی، گندگی ہر طرف پھیل جاتی ہے، کئی چیزوں کے واقعہ نقصان ہو جاتے ہیں ،شور فساد مصیبت اور زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔مہمان تو جب چاہے اپنے بچوں کو الگ کرلے لیکن میزبان کے لئے بڑا مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ ادب کے خلاف ہے کہ مہمان کے بچوں کو کسی رنگ میں بھی کچھ کہا جائے۔اس سے اُن کو تکلیف پہنچے گی تو وہ مائیں جو اپنے بچوں کو دوسروں کے ہاں شور کرنے اور ان کی چیزیں خراب کرنے یا تنگ کرنے کی چھٹی دیتی ہیں وہ بڑی ظالم مائیں ہیں وہ وقتی طور پر صرف میزبان کو نقصان نہیں پہنچاتیں بلکہ اپنی اولا د کو ہمیشہ کے لئے خراب کر رہی ہوتی ہیں ایسے بچوں میں سے تمیز اُٹھ جاتی ہے۔ان میں ایثار نہیں رہتا، وہ دوسروں کا احساس کرنے کے جذبات سے عاری ہو جاتے ہیں اور قوم کو پھر بدخلق لوگ ملتے ہیں پس ماؤں کو چاہئے کہ صاحب خلق کو اپنی گودوں میں پالیں اور بڑا کریں اور ایسی حالت میں انہیں قوم کے سپرد کریں کہ ان کے اخلاق سنور چکے ہوں اور وہ قومی اخلاق سے آراستہ ہوں اور ایک دوسرے کے ساتھ عمدہ معاشرت کا سلوک کریں، معاشرتی حقوق ادا کریں لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بچے کے بچپن میں یہ باتیں بگڑا کرتی ہیں، جن ماؤں نے اپنی اولاد کو کھلی چھٹی دے رکھی ہو کہ جو چاہیں کریں ان کی اولاد بڑی ہو کر لازماً معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہے پس آپ جبکہ مہمان بن کر مختلف جگہوں سے آئیں گے تو اگر آپ کے بچے ساتھ ہیں تو ان کو لگام دیں اور پوری طرح اس بات کا احساس کریں کہ ان کی وجہ سے کسی دوسرے کو تکلیف نہ ہو۔پھر گپتوں کی مجالس سے پر ہیز کیا کریں بعض لوگ بیٹھ جاتے ہیں اور گپوں کی لمبی مجالس چلاتے ہیں۔یہ رواج کوئی آج کا رواج نہیں یہ انسانی فطرت کے ساتھ تعلق رکھنے والا دیرینہ رواج