خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 489 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 489

خطبات طاہر جلد ۱۱ 489 خطبہ جمعہ ۷ ار جولائی ۱۹۹۲ء جو شادی نہیں کی تو وہ معصوم تھا۔شادی کرنے والے کیسے معصوم ہوئے اس مضمون کو بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لکھتے ہیں کہ شفاعت کی دو شرطوں میں سے ایک شرط اُس میں مفقود ہے اس لئے اگر عصمت اُس میں پائی بھی جائے تب بھی وہ شفاعت کرنے کے لائق الله نہیں۔۔۔یا درکھیں کہ یہاں یہ مراد نہیں ہے کہ حضرت مسیح شفاعت کے لائق نہیں تھے۔بعض ٹیڑھی سوچوں والے، ٹیڑھے دماغ والے ایسی عبارتوں سے غلط نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا طریق یہ ہے کہ بعض دفعہ نام لے کر بعض دفعہ نام لئے بغیر عیسائیوں کے ان جھوٹے اعتراضوں کا جواب دیتے ہیں جو ان صفات پر مبنی تھے جو ان کے فرضی مسیح میں پائی تھیں اور جواُن کے نزدیک رسول اللہ ﷺ میں نہیں پائی جاتی تھیں۔جب بھی عیسائیوں کی طرف سے ایسی گستاخی کی گئی تو اُن کے اپنے معتقدات کی رو سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ملزم ثابت فرمایا۔یہ مضمون ہے لیکن ہرگز یہ مراد نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نزدیک حضرت مسیح اپنی قوم کے لئے شفیع نہیں تھے کیونکہ دوسری عبارتوں میں جہاں حقیقی مسیح کی بات ہوتی ہے، وہ مسیح جو عیسائیوں کے تخیل کی پیداوار نہیں بلکہ خدا کی مخلوق تھا اور خدا نے اُسے خود صیقل فرمایا تھا ، خدا نے اس میں روح پھونکی تھی اُس مسیح کا جب ذکر آتا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دل محبت سے اچھلنے لگتا ہے اور بے اختیار اس مسیح کی پاکیزگی بیان فرماتے ہیں۔پس یہاں جو مضمون ہے وہ ایک منطقی مضمون ہے جو عیسائیوں کے بیہودہ لغو اعتراضات کو مدنظر رکھ کر بیان فرمایا کہ اگر تمہارے نزدیک معصومیت یہی ہے کہ انسان شادی ہی نہ کرے تو یہ معصومیت تو دیوانوں کو بھی حاصل ہو جاتی ہے، یہ معصومیت تو ایسے لوگوں کو جو شادی کے لائق نہیں ان کو بھی حاصل ہو جاتی ہے، بچوں کو بھی حاصل ہو جاتی ہے۔معصومیت تو ہے لیکن شفاعت نہیں۔اس معصومیت کے ساتھ انسان شفاعت کا اہل نہیں قرار پاتا فرماتے ہیں۔وو اور شفاعت کی دو شرطوں میں سے ایک شرط اُس میں مفقود ہے۔اس لئے اگر عصمت اُس میں پائی بھی جائے تب بھی وہ شفاعت کرنے