خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 488
خطبات طاہر جلدا وہ مامور فرمایا جائے گا۔فرمایا: وو 488 خطبہ جمعہ ۷ ارجولائی ۱۹۹۲ء یعنی ایک تعلق کہ ان میں آسمانی روح پھونکی گئی اور خدا نے ایسا اُن سے اتصال کیا کہ گویا اُن میں اتر آیا اور دوسرے یہ کہ بنی نوع کی زوجیت کا وہ جوڑ جو حوا اور آدم میں باہمی محبت اور ہمدردی کے ساتھ مستحکم کیا گیا تھا ان میں سب سے زیادہ چمکایا گیا۔۔۔یہ انس جو انسانوں میں داخل فرمایا گیا ہے اس کا منبع اور سر چشمہ خاوند اور بیوی کا تعلق ہے۔یہ وہ مضمون ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آدم اور حوا کے حوالے سے ہمیں سمجھا رہے ہیں۔فرمایا یہ سب سے زیادہ ان میں چمکایا گیا۔۔اسی تحریک سے ان کو بیویوں کی طرف بھی رغبت ہوئی اور یہی ایک اول علامت اس بات کی ہے کہ ان میں بنی نوع کی ہمدردی کا مادہ ہے اور اسی کی طرف وہ حدیث اشارہ کرتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ خیر کم خيــركــم لاهله ( ترمذی کتاب المناقب حدیث نمبر ۳۸۳۰) یعنی تم میں سے سب سے زیادہ بنی نوع کے ساتھ بھلائی کرنے والا وہی ہو سکتا ہے کہ پہلے اپنی بیوی کے ساتھ بھلائی کرے مگر جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ ظلم اور شرارت کا برتا ؤ رکھتا ہے ممکن نہیں کہ وہ دوسروں کے ساتھ بھی بھلائی کر سکے کیونکہ خدا نے آدم کو پیدا کر کے سب سے پہلے آدم کی محبت کا مصداق اس کی بیوی کو ہی بنایا ہے۔“ اور سارے محبت کے تعلق اسی سے پھوٹتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آگے جا کر اس مضمون کی مختلف شاخیں بناتے اور دکھاتے ہیں کہ دیکھو اس رشتے سے پھر آگے تعلق کے کتنے رشتے پھوٹتے ہیں۔دو پس جو شخص اپنی بیوی سے محبت نہیں کرتا یا اس کی خود بیوی ہی نہیں وہ کامل انسان ہونے کے مرتبہ سے گرا ہوا ہے۔۔۔یہاں اصل میں حضرت مسیح پر حضرت اقدس محمد ﷺ کی فضیلت کے بیان کا مضمون ہے۔اب وہ لوگ جو عیسائی دنیا میں رہتے ہیں ان کے سامنے یہ بات پیش کی جاتی ہے کہ دیکھو مسیح نے