خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 487
خطبات طاہر جلدا 487 خطبہ جمعہ ۷ ار جولائی ۱۹۹۲ء مطابق وہ جھوٹی محبت ہے۔فرماتے ہیں۔جب محبت بہت بڑھ جاتی ہے تو پھر جس شخص سے محبت کی جاتی ہے اس کی بھلائی کے سوا انسان کچھ چاہ ہی نہیں سکتا۔یہ ناممکن ہے کہ کسی معنوں میں بھی اس کی بدی کا تصور کر سکے۔اپنے آپ کو ہلاک کرلے گا لیکن یہ پسند نہیں کرے گا کہ اس کے محبوب کو کوئی ضرر پہنچے۔چنانچہ فرماتے ہیں۔یہ امر بچوں کی نسبت ان کی ماؤں کی طرف سے مشہود اور محسوس ہے۔۔۔یعنی بچے جانتے ہیں کہ کس طرح مائیں اُن سے محبت کرتی ہیں اور کس طرح ہر آن ہر لمحہ ان کی بھلائی چاہتی ہیں۔پھر فرماتے ہیں۔وو۔۔۔پس اس تقریر سے صاف ظاہر ہے کہ کامل انسان جو شفیع ہونے کے لائق ہو وہی شخص ہو سکتا ہے جس نے ان دونوں تعلقوں سے کامل حصہ لیا ہو اور کوئی شخص بجز ان ہر دو قسم کے کمال کے انسان کامل نہیں ہو سکتا۔شفیع وہ ہے جس نے دونوں سے حصہ لیا ہو۔اُس میں تمام انبیاء شریک ہیں اور انبیاء سے نیچے اتر کر صلحا اور خدا کے وہ سب پاک، راستباز بندے جو خدا کی صفات سے کچھ حصہ لیتے اور بنی نوع انسان کی محبت سے بھی حصہ لیتے ہیں اور ایک فیض کو دوسرے کی طرف جاری کرتے رہتے ہیں لیکن اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔” کوئی شخص بجز ان ہر دو قسم کے کمال صلى الله کے انسان کامل نہیں ہوسکتا، یعنی فیض تو سب کو ملے لیکن انسان کامل ایک ہی ہے یعنی حضرت محمد تھے۔آپ نے فرمایا۔" اسی لئے آدم کے بعد یہی سنت اللہ ایسے طرح پر جاری ہوئی کہ 66 کامل انسان کے لئے جو شفیع ہو سکتا ہے یہ دونوں تعلق ضروری ٹھہرائے گئے۔یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام عام معنوں میں ” کامل استعمال فرما رہے ہیں۔رسول اللہ ﷺ کی طرف اشارے کے معنوں میں نہیں بلکہ ان معنوں میں کہ ہر نبی اپنی استعدادوں کے مطابق اپنے درجہ کمال کو پہنچ جاتا ہے اور اس کا درجہ کمال یہی ہے کہ اس میں یہ دونوں صفات برابر ترقی کریں ، خدا کی محبت بھی اور بنی نوع انسان کی محبت بھی اور جتنی اس کو توفیق ہے اس کے انتہا تک پہنچ جائے تب وہ شخص درجہ کمال تک پہنچا ہوا کہلائے گا۔تب اللہ تعالیٰ سے اس پر نعمت کا اتمام ہوگا اور