خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 486
خطبات طاہر جلد ۱۱ 486 خطبہ جمعہ کے ار جولائی ۱۹۹۲ء دائرہ فطرت اور مناسبت کے زیادت بھی ہو جاتی ہے۔۔۔66 پس جو ورثہ ملا ہے وہ اسی حد تک رکھے جانے کے لائق نہیں بلکہ اس کو بڑھانا ضروری ہے اور اگر حضرت محمد مصطفی اللہ کے فیض کے سمندر سے اس ورثے کا تعلق قائم کر دیا جائے تو وہ ورثہ اتنا بڑھ سکتا ہے کہ ایک عام انسان کی نظر میں گویا، لا پیدا کنار ہو جائے۔اس کی مثال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یوں دیتے ہیں کہ ہر انسان میں محبت کا مادہ ہے۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ انسان در اصل ”انسان“ تھا اُنس کا مطلب ہے تعلق۔ایک انس کو عربی میں اُنس کہتے ہیں دو انس ہوں تو اُن کو انسان کہا جاتا ہے تو فرمایا در اصل انسان دو انسوں سے بنا ہے ایک اللہ کا انس جو اس کی فطرت میں ودیعت ہوا اور ایک بنی نوع انسان کا اُنس یعنی ہم جولیوں اور ساتھیوں اور اپنے ہم نوع لوگوں کا اُنس جو اُسے وراثہ ملا۔۔۔فرماتے ہیں۔وو۔یہ انس تو ہر ایک میں پایا جاتا ہے مگر یہ اُنس عشق کی حالت میں کبھی کبھی تموج اختیار کرتا ہے اور اُس کے لئے انسان کو خاص محنت کرنی پڑتی ہے، ایک خاص قسم کی محبت کمانی پڑتی ہے۔“ فرماتے ہیں۔۔۔۔اسی بنا پر قوت عشقی کا تموج بھی ہے کہ ایک شخص ایک شخص سے اس قدر محبت بڑھاتا ہے کہ بغیر اس کے دیکھنے کے آرام نہیں کر سکتا۔آخر اس کی شدت محبت اس دوسرے شخص کے دل پر بھی اثر کرتی ہے۔۔۔یہ وہی بات ہے کہ عشق اول در دل معشوق پیدا می شود۔جس کے دل میں پہلے محبت پیدا ہوتی ہے اُسے ان معنوں میں معشوق کہا گیا ہے کہ وہ عاشق بنانے والی محبت ہوتی ہے۔۔۔۔اور جوشخص انتہا درجہ پر کسی سے محبت کرتا ہے وہی شخص کامل طور پر اور بچے طور پر اس کی بھلائی کو بھی چاہتا ہے۔۔۔“ پس ایسی محبت جو بظاہر حد سے بہت بڑھی ہوئی دکھائی دے لیکن محبت کرنے والا انسان کو گناہوں میں مبتلا کر دے اور محض اپنے نفس کی خواہش کے نتیجہ میں اس کا دین بھی برباد کر دے اور اس کی دنیا بھی تباہ کر دے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پاکیزہ اور قابل اعتماد کسوٹی کے