خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 44 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 44

خطبات طاہر جلد ۱۱ 44 خطبہ جمعہ ۱۷؍جنوری ۱۹۹۲ء ہمارے پاس کم رہ گئے ہیں تو انہوں نے بڑی محنت کے ساتھ گورمکھی زبان سیکھی اور اس میں بہت اعلیٰ سرٹیفکیٹ حاصل کئے۔ان کی گورمکھی کی جو تحریر میں نے دیکھی ہے۔اخباروں میں بھی چھپتی رہی ہیں ان کی کتابت ہی ایسی خوبصورت تھی کہ آدمی حیران رہ جاتا تھا۔یہ سب کام انہوں نے اس عمر میں ولولے اور جوش سے سیکھے اور انگلستان کی جماعت میں تو یہ ایک خلا ہے جو بہر حال رہے گا۔جماعت دیر تک ان کو یاد رکھے گی۔ان کے لئے دعائیں کرتی رہے گی۔باقی دنیا کی جماعتوں کو بھی میں درخواست کرتا ہوں ان کو اپنی دعاؤں میں یا درکھیں۔ان کی بڑی خواہش تھی کہ قادیان میں دفن ہوں اس خواہش کا اظہار وہ مجھ سے بھی کر چکے تھے اور یہ بھی بڑی خواہش تھی کہ میں جنازہ پڑھاؤں تو قادیان میں ان کی اچانک وفات سے ان کی یہ دونوں دلی خواہشات پوری ہوگئیں۔بہشتی مقبرہ میں ان کو تدفین نصیب ہوئی۔مجھے ان کی قبر پر جا کر دعا کی بھی توفیق ملی۔دوسرے ہمارے چوہدری آفتاب احمد صاحب بھی ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو انگلستان کی جماعت میں بہت معروف ہے۔خدمت دین میں پیش پیش اور سارا خاندان اور ان کی ساری اولا واللہ کے فضل سے بہت ہی اخلاص رکھتی ہے اور سلسلہ کے کاموں میں پیش پیش ہے ان کی بیگم صاحبہ کی بہت خواہش تھی کہ وہ قادیان جلسہ دیکھیں۔باوجود اس کے کہ بہت ہی خطر ناک بیماری تھی۔جگر بار بار کام کرنا چھوڑ دیتا تھا۔میں نے ان کو مشورہ بھی دیا کہ آپ نہ جائیں۔یہ بڑی خطر ناک چیز ہے۔اس سفر کی صعوبت آپ برداشت نہیں کر سکیں گی لیکن پتہ نہیں ڈاکٹر کو کیا کہہ کر اس سے اجازت لے لی کہ میں ٹھیک ٹھاک ہوں کوئی بات نہیں۔وہاں جا کر بہت زیادہ تکلیف بڑھ گئی وہاں تو خدا تعالیٰ نے فضل کیا۔جب دعا کے لئے وہ بار بار کہتی رہیں اور ڈاکٹروں نے کوشش کی۔پھر جب ہم دتی آکر دوبارہ گئے ہیں تو اس وقت وہ پاکستان کے لئے روانہ ہو چکی تھیں اور ٹھیک تھیں لیکن اب اطلاع ملی ہے کہ وہاں جا کر یہ تکلیف عود کر آئی اور ہسپتال میں داخل ہوئیں اور غالباً آپریشن ہونا تھا۔ہوا یا نہیں اللہ بہتر جانتا ہے مگر ہسپتال ہی میں وفات ہوگئی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین ہوئی۔تو آپ کے نمائندوں میں سے ایک کو خدا تعالیٰ نے قادیان کے بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کی سعادت بخشی جلسہ دیکھنے کے بعد اور ایک کو ربوہ کے بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کی سعادت بخشی۔یہ تو ان کے لئے بھی سعادت ہے اور ساری جماعت انگلستان کے لئے بھی ہے لیکن ان کے