خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 43 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 43

خطبات طاہر جلدا 43 خطبہ جمعہ ۷ ارجنوری ۱۹۹۲ء کوشش کے باوجود سارے کارکن مل کر بھی کام کرتے تب بھی قادیان کے حالات ابھی ایسے نہیں ہیں کہ جماعت احمدیہ قادیان میں اتنے مہمان ٹھہر اسکے لیکن اب وہ وسعتیں پیدا ہوتی دکھائی دے رہی ہیں آغاز ہو چکا ہے تو اگلے سال میں سمجھتا ہوں اگر خدا نے تو فیق دی اور یہی اس کا منشاء ہوا کہ ہم پھر وہاں اس جلسہ میں جائیں تو پہلے کی نسبت دو تین گنا زیادہ مہمانوں کو وہاں ٹھہرایا جا سکے گا۔پس ہندوستان کی حکومت نے جو دس ہزار کی شرط لگائی وہ معلوم ہوتا ہے تقدیر خیر ہی تھی جسے ہم تقدیر شتر سمجھ رہے تھے۔ہم سمجھتے تھے کہ انہوں نے ہمارے ساتھ پورا تعاون نہیں کیا لیکن ہندوستان کی حکومت کہتی تھی کہ یہاں کے حالات ایسے ہیں ہماری ساری فوجیں ، ہماری پولیس وغیرہ سارے پنجاب میں اس طرح مصروف ہے کہ ہم اتنے زیادہ آدمیوں کی ذمہ داری قبول نہیں کر سکتے۔اس لئے تعاون کرنا چاہتے ہیں مگر مجبوری ہے۔ان کا تو یہ عذر تھا لیکن دراصل جو مجھے دکھائی دیا ہے وہ یہ ہے کہ اس سے زیادہ کی ہمارے اندر بھی استطاعت نہیں تھی، طاقت نہیں پیدا ہوئی تھی۔اس لئے طاقت کو بڑھا ئیں تو اللہ تعالیٰ باقی آسانیاں خود پیدا فرما دیگا اور طاقت کو بڑھانا بھی اسی کا کام ہے۔اس لئے آخر پر میں ایک دفعہ پھر تمام عالمگیر جماعتوں کی طرف سے ان سب کا شکر یہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے قادیان کے جلسہ کو کامیاب بنانے میں بھر پور حصہ لیا ہے۔اپنوں کا بھی ، غیروں کا بھی ، ہندوستان کی حکومت کا بھی ، پنجاب کی حکومت کا بھی ، پاکستان کی حکومت کا بھی کہ انہوں نے کوئی روک نہیں ڈالی اور جیسا کہ خطرہ تھا کہ معاندین جو حسد کی آگ میں جل رہے تھے وہ رستے میں شرارت پیدا کریں گے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ حکومت پاکستان نے اس معاملہ میں ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی ورنہ کئی شرارتیں پیدا ہو سکتی تھیں۔کئی تکلیف دہ واقعات رونما ہو سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس شر سے بھی ہمیں بچایا۔اس پہلو سے میں حکومت پاکستان کا بھی شکر یہ ادا کرتا ہوں۔آخر پر دو ایسے مرحومین کے لئے دعا کی درخواست کرتا ہوں جن کا جماعت انگلستان سے تعلق تھا اور وہ دونوں ہم وہیں پیچھے چھوڑ کر آئے ہیں۔ایک ہمارے کیپٹن محمد حسین صاحب چیمہ ہیں جو جماعت احمد یہ انگلستان کے ایک بہت ہی پیارے اور ہر دلعزیز انسان تھے۔بڑی عمر کے باوجودان کا دل جوان تھا ان کا جسم جوان صحت مند ، ہر قسم کے مقابلوں میں حصہ لیتے ، ہر وقت مسکراتے رہتے اور بڑی عمر میں دین کی خدمت کا ایسا جذبہ تھا کہ ایک دفعہ میں نے تحریک کی کہ گورمکھی جاننے والے