خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 42
خطبات طاہر جلد ۱۱ 42 خطبہ جمعہ ۷ ارجنوری ۱۹۹۲ء نہیں آیا تھا۔ایک کمرے میں ہم سب اکٹھے ہو گئے اور سارا گھر مہمانوں کو دے دیا اور مہمانوں نے بھی ہم سے محبت کا ایسا سلوک کیا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ صدیوں کے آشنا ہوں۔بچپن سے اکٹھے رہے ہوں تو یہ جو تحریک کی تھی یہ خاص طور پر اسی نیت سے کی گئی تھی۔قادیان کو میں نے لکھا تھا کہ آپ کے پاس ساری محنتوں کے باوجود، کوششوں کے باوجود ابھی بھی مہمانوں کو ٹھہرانے کی جگہ نہیں ہے۔آپ غیر مسلموں خصوصاً سکھوں تک پہنچیں اور ان سے کہیں کہ قادیان کے مہمان ہیں۔تم بھی قادیان کے باشندے ہو اس میں حصہ لو اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ دونوں طرف کے تعلقات وسیع ہوں گے اور قادیان کی واپسی کا صرف اس چھوٹے سے حصے سے تعلق نہیں ہے جو اس وقت ہمارے قبضہ میں ہے۔سارے قادیان کے دلوں کا ہمارے قبضہ میں آنا ضروری ہے اور اس ضمن میں یہ جو کوشش تھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی مؤثر اور بہت ہی کامیاب ثابت ہوئی ہے۔چنانچہ آنے سے پہلے جو وفود ملے ان میں سے ایک وفد اسی سلسلہ میں ملا تھا۔اس نے کہا کہ ہم سے تو لوگ ناراض ہیں کہ ہمیں کیوں نہیں بتایا اور جو قصے ہم آگے لوگوں کو سناتے ہیں کہ اس طرح مہمان تھے۔ایسے ایسے عجیب انسان تھے۔ایسی شرافت کے ساتھ انہوں نے ہم سے برتاؤ کیا۔ایسی محبت اور اخلاص کے ساتھ سلوک کیا۔کہتے ہیں وہ قصے سنتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم کیوں پیچھے رہ گئے تو انہوں نے مجھے یقین دلایا کہ آئندہ اگر آپ ہمیں پہلے اطلاع کریں تو قادیان میں شاید ہی کوئی گھر ہو جو مہمان رکھنے کے لئے تیار نہ ہو اور اس وقت قادیان کی آبادی کا جو پھیلاؤ ہے اگر جیسا کہ خدا تعالیٰ نے آثار ظاہر فرمائے ہیں وہ ان عہدوں پر قائم رہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو اسی طرح احمدیت کی محبت سے بھرے رکھے تو آئندہ مہمان ٹھہرانے کا مسئلہ کوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔جس طرح پرانے زمانہ میں قادیان کی چھوٹی آبادی تھیں تمیں چالیس چالیس ہزار مہمانوں کو ٹھہرالیا کرتی تھی اب یہ آبادی جو وسیع ہو چکی ہے، کچھ اور بھی بہت سے مہمان خانے بننے والے ہیں یہ سب ملا کر میں سمجھتا ہوں کہ ڈیڑھ دولاکھ تک بھی وہاں مہمانوں کے ٹھہرانے کا انتظام ہو سکتا ہے۔اس کے لئے تیاری کا جتنا وقت چاہئے اسی نسبت سے اللہ تعالیٰ ہماری توفیق بڑھا رہا ہے۔اس دفعہ ہم نے خواہش ظاہر کی تھی کہ حکومت ہندوستان پچاس ہزار تک اجازت دے دے مگر تجربہ نے بتایا کہ پچاس ہزار کی ہمارے اندر توفیق نہیں تھی۔نہیں سنبھال سکتے تھے۔یعنی پوری