خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 460
خطبات طاہر جلد ۱۱ 460 خطبہ جمعہ ار جولائی ۱۹۹۲ء وقت شروع ہو، کسی وقت ختم ہو جوتحریک جدید کا سال گزشتہ تھا اس کی آمد کو ایک سال کی آمد کے طور پر ان اعداد و شمار میں شامل کر لیا ہے۔جو میں آپ کے سامنے پیش کروں گا اس سے پہلے قرآن کریم کی جس آیت کی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے اس کا ترجمہ اور مختصر تشریح آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔یہ سورۃ البقرہ کی آیت ۲۶۶ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان لوگوں کی مثال جو اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔راہ کا لفظ تو محاورہ بولا گیا ہے۔لفظی ترجمہ اس کا یہ بنتا ہے کہ ان لوگوں کی مثال جو اپنے اموال ابتغاء مَرْضَاتِ اللہ اللہ کی رضا چاہتے ہوئے رضا نہیں بلکہ رضائیں چاہتے ہوئے کثرت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی رضا پر نظر رکھتے ہوئے اس کی حرص میں خرچ کرتے ہیں کہ شاید اس قربانی سے خدا کی رضا حاصل ہو جائے۔تو رضا کی تمنا میں جب بھی توفیق ملتی ہے وہ مال خرچ کرتے چلے جاتے ہیں۔وَتَثْبِيتًا منْ أَنفُسِهِمْ اور اموال کے خرچ کا دوسرا مقصد اپنے نفسوں کو مضبوط کرنا ہے۔آپ نے لفظ ثبات قدم سنا ہوا ہے۔بار بار استعمال بھی کرتے ہیں۔دعاؤں میں ثبات کا لفظ آتا ہے۔ثبات سے مراد ہے مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جانا تو اس غرض سے وہ خرچ کرتے ہیں کہ اس سے اُن کے نفس مضبوط ہو جاتے ہیں اور قائم ہو جاتے ہیں۔ان کی مثال ایسی جنت کی سی ہے، ایسے باغ کی سی ہے جو ایک پہاڑی پر ہو۔ایک اونچی جگہ پر واقع ہو۔اَصَابَهَا وَابِل اور اُسے موسلا دھار بارش پہنچے۔فَاتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ ایسی صورت میں ایسا باغ جو پہاڑی پر واقع ہوا سے موسلا دھار بارش بھی پہنچے تو نقصان نہیں ہوتا بلکہ دگنا پھل دیتا ہے۔فَاِنْ لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَصَلُّ۔اور اگر موسلا دھار بارش نصیب نہ ہو تو شبنم ہی اس کے کام آجاتی ہے اور اسی سے وہ باغ لہلہانے لگتے ہیں۔وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ اور اللہ تعالیٰ اس چیز کو جو تم کرتے ہو بہت جانتا ہے۔ا یہاں مومنوں کے خرچ کے لئے دو ہی مقاصد پیش فرمائے گئے ہیں کوئی تیسرا مقصد بیان نہیں ہوا۔اس کے علاوہ بعض دوسری آیات میں جو اسی تسلسل میں ملتی ہیں ایسے مقاصد بھی پیش فرمائے جو ان کے علاوہ ہیں اور ان سب کو باطل قرار دیا گیا۔ایسے مقاصد جن میں ریاء کسی کو خرچ کرنے کے بعد تکلیف پہنچانا ، اس پر احسان جتانا اور اسی طرح بعض دوسری آیات میں ایک یہ مقصد