خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 41
خطبات طاہر جلد ۱۱ 41 خطبہ جمعہ ۷ ارجنوری ۱۹۹۲ء اعتماد کے ساتھ ان کو اس نظام کے مطابق چلنا چاہئے۔ان کو اس سے زیادہ اور کیا چاہئے کہ دنیا کا ایک نہایت اعلیٰ درجہ کا نظام دیانتداری کے ساتھ ان کی خدمت کے لئے تیار ہے اور ان کے اپنے آخری مفاد کا بھی یہی تقاضا ہے کہ انفرادی سودا بازیوں کی بجائے جماعت کی معرفت اپنا کام کریں اور اس کے نتیجہ میں ایک اور خطرہ سے بھی ہمیں نجات مل جائے گی کیونکہ بعض علاقے ایسے ہیں جہاں جماعت کو دلچسپی ہے کہ جماعت وہاں ضرور زمین بنائے اور انفرادی لینے والے جب وہاں ایک دواڑے بنا لیتے ہیں تو ساری سکیم تباہ ہو جاتی ہے چنانچہ ایک دو ایسے واقعات میری نظر میں آئے۔قادیان کے پھیلاؤ کی خاطر ہم نے ایک منصوبہ بنایا ہوا ہے اس منصوبے میں جن علاقوں میں بعض آئندہ پروگرام تھے ان میں بعض لوگوں نے اپنے طور پر زمینیں لے لیں چنانچہ ان کو میں نے متنبہ کیا۔میں نے کہا یہ درست نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جماعت میں بڑا اخلاص ہے انہوں نے کہا جس قیمت پر ہم نے لی ہیں ہم حاضر ہیں آپ ہم سے واپس لے لیں یا چاہیں تو اس کے متبادل ہمیں کوئی جگہ دے دیں۔چنانچہ بعض دفعہ متبادل جگہ دے دی گئی۔بعض دفعہ اسی قیمت پر وہ زمین ان سے لے لی گئی تو خدا کے فضل سے اب تک کوئی خرابی نہیں پیدا ہوئی لیکن خرابی کے احتمالات دکھائی دینے لگ گئے ہیں۔اس لئے میں ساری دنیا کی جماعتوں کو سمجھا تا ہوں کہ یہ بہت اچھا کام ہے۔وہاں جائیدادیں لینی چاہئیں لیکن نظام کے مطابق ، نظام کے رستے سے۔دستور اور طریقے کے ساتھ یہ کام کریں تاکہ ساری جماعت کے مفاد کے تقاضے پورے ہوں اور انفرادی مفاد جماعتی مفاد سے ٹکرائے نہیں۔اب چونکہ وقت زیادہ ہو رہا ہے اس لئے آخری ایک شکر یہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔اس کے بعد آج کے خطبہ کو ختم کروں گا۔وہاں کی سکھ آبادی نے جس محبت کا سلوک کیا ہے اس میں ایک خاص پہلو یہ تھا کہ اپنے مکانات پیش کئے اور بعض لوگوں کو جب یہ خبریں ملیں کہ غیر احمدی آبادی میں بھی مہمان ٹھہرائے جارہے ہیں تو بڑے ذوق شوق سے وہاں دوڑتے ہوئے آئے۔بعض لوگ رات بارہ ایک دو بجے تک ٹھہرے رہے جب تک قافلے آنہیں گئے کہ ہم اس وقت جائیں گے جب ہمارے حصے کے مہمان دو گے اور بعض ایسے خاندان جنہوں نے مہمان اپنے گھر ٹھہرائے تھے انہوں نے بعد میں ملاقاتیں کیں اور انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسا سرور آیا ہے، ایسا لطف آیا ہے کہ کبھی زندگی میں ایسا مزہ