خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 40 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 40

خطبات طاہر جلدا 40 خطبہ جمعہ ۷ ار جنوری ۱۹۹۲ء طلب پیدا ہو چکی ہے تو یہ خطرہ ہے کہ وہاں کی جائیدادیں بہت تیزی کے ساتھ مہنگائی کی طرف مائل ہو جائیں ۔ ابھی اس جلسہ کے نتیجہ میں ہی قادیان میں قیمتیں عام ہندوستان کی قیمتوں سے ڈیڑھ گنا بڑھ گئی تھیں ۔ وہی چیزیں جب ہم قادیان میں ڈیڑھ سوروپے کی لے رہے تھے دہلی میں سو(۱۰۰) کی مل رہی تھیں ، امرتسر میں بھی اسی قیمت پر۔ تو اگر جائیدادوں کی طرف یہ رجحان ہوا جیسا کہ ہونا ہے اور ابھی سے آثار ظاہر ہیں تو بے ہنگم طریق پر جائیدادیں خریدنے کے نتیجہ میں جماعت کو بہت مالی نقصان پہنچے گا اور مرکزی مفادات کو بھی نقصان پہنچے گا۔ انفرادی طور پر بھی ہر شخص نقصان اٹھائے گا۔ ایک آدمی اپنی طرف سے یہ چالا کی کر رہا ہے کہ میں جلدی سے سودا کرلوں بعد میں قیمتیں بڑھ جائیں گی تو دراصل اس کی اس عجلت کے پیچھے ایک بد نیتی کارفرما ہوتی ہے۔ بد نیتی یا خود غرضی کہہ لیں ۔ خالصہ نیکی نہیں ہوتی جائیداد خریدنے میں بلکہ یہ ہوتا ہے کہ اس وقت وقت ہے میں لے لوں ، کل کو جب مہنگائی بڑھے گی اور لوگوں میں طلب پیدا ہوگی تو اس زمین کا ایک حصہ بیچ کر میں بہت منافع حاصل کر کے دوسرے حصہ پر اپنا مکان آسانی سے بنا سکتا ہوں ۔اسے بد نیتی نہ کہیں لیکن خالص نیکی نہ رہی بلکہ کچھ اغراض نفس بھی شامل ہو گئیں اور اس کے نتیجہ میں اس نے یہ نہیں سوچا کہ اگر میں اس طرح کھلی مارکیٹ میں جا کر قیمتیں خراب کرنے لگوں تو کل کو آنے والے میرے بھائیوں کو بڑا نقصان پہنچے گا۔ جماعت نے جو بڑے وسیع رقبوں کی زمینیں حاصل کرنی ہیں اور آئندہ جو ہمارے منصوبے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ جماعت کے پاس وہاں کثرت سے زمینیں ہوں تا کہ ان میں مرکزی منصوبوں پر عمل درآمد ہو سکے ، ان کو بڑا شدید نقصان پہنچے گا۔ جو چیز آج ایک لاکھ روپے کی مل رہی ہے وہ دیکھتے دیکھتے ڈیڑھ لاکھ ، دولاکھ، تین لاکھ کی ہو جائے گی تو وہی جماعتیں جو باہر سے قربانی کر رہی ہیں ان کی قیمت خرید گویا کہ 1/3 One Third) رہ جائے گی اور نقصان پہنچانے والے بھی وہی باہر کے لوگ ہوں گے جو ایک طرف جماعت کی معرفت چندے بھی بھیج رہے ہیں اور دوسری طرف ان چندوں کو ملیا میٹ کرنے کا بھی انتظام کر رہے ہیں اس لئے یہ یا د رکھیں کہ کوئی شخص براہ راست وہاں کوئی سودا نہیں کرے گا۔ میں وہاں انجمن کو ہدایات دے آیا ہوں کہ جس نے سودا کرنا ہے وہ آپ کو لکھے یا مجھے لکھے اور ہم ان کی خاطر تلاش کر کے مناسب قیمتوں پر بغیر کسی منافع کے جگہ ڈھونڈ کر دیں گے۔ آگے ان کا کام ہے وہ پسند کریں کہ یہ جگہ لینی ہے یا فلاں جگہ لینی ہے لیکن پورے