خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 436 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 436

خطبات طاہر جلد ۱۱ 436 خطبہ جمعہ ۲۶ جون ۱۹۹۲ء وو۔۔۔اللہ تعالیٰ کی طرف تو آپ کا صعود ہوا یعنی خدا تعالیٰ کی محبت اور صدق و وفا میں ایسے کھینچے گئے کہ خود اس ذات اقدس کے دنو کا درجہ آپ کو عطا ہوا۔۔۔۔کھینچے جانے کا مطلب در اصل تبتل ہے اور اس مضمون کو میں آئندہ انشاء اللہ مزید تفصیل سے بیان کروں گا۔فرماتے ہیں ایسے کھینچے گئے کہ خدا تعالی کی طرف سے آپ کو دنو کا درجہ عطا ہوا ہے۔”۔۔۔دنو اقرب سے ابلغ ہے۔۔۔66 یعنی ایک لفظ ہے اقرب یعنی قریب ترین۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اقرب کے مقابل پر دنسو کا لفظ زیادہ فصیح و بلیغ ہے۔اس سے زیادہ فصیح و بلیغ لفظ ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ اقرب میں تو یہ معنی بھی پائے جا سکتے ہیں کہ ویسے ہی خدا نے تقدیر کسی کو اپنے قریب رکھ لیا ہے مگر دنو میں پورے سفر کا حال بیان ہوا ہے۔دنیا سے سفر شروع کیا ہے اور عروج کے اس اعلیٰ مقام تک پہنچے ہیں اور اس سارے سفر کی تمام منازل سے واقف ہوئے اور درجہ بدرجہ ترقی پانے کے سارے راز آپ نے پائے۔تب آپ بنی نوع انسان کے استاد مقرر ہوئے کیونکہ ہر منزل کے ہر راز سے واقف بنائے گئے پس جب آپ ان معنوں میں لفظ دنو پر غور کرتے ہیں تو اقرب کا لفظ اس کے مقابل پر محض ایک سطحی سالفظ اور بے معنی سالفظ دکھائی دیتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فرمانا کہ دنو اقرب سے ابلغ ہے اگر کوئی صاحب نظر انسان ہو تو اسی ایک فقرے پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا قائل ہوسکتا ہے۔سخت ہی متعصب اور جاہل اور اندھا ہوگا جو یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا راز نہ پاسکے۔پھر فرماتے ہیں۔۔۔۔اس لئے یہاں یہ لفظ اختیار کیا جب اللہ تعالیٰ کے فیوضات اور برکات سے آپ نے حصہ لیا۔۔۔۔66 یعنی دنیا سے کٹنے کے بعد خالی نہ رہے۔خدا کے فیوض اور برکتوں سے حصہ پایا تو۔۔۔پھر بنی نوع پر رحمت کے لئے نزول فرمایا۔یہ وہی رحمت تھی جس کا اشارہ مَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبیاء : ۱۰۸) میں