خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 434 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 434

خطبات طاہر جلد ۱۱ 434 خطبہ جمعہ ۲۶ جون ۱۹۹۲ء بیمار ایسے ہوتے ہیں جن کے بدن پر کئی قسم کی آلائشیں لگی ہوتی ہیں کئی قسم کے پھوڑے اور پھنسیاں اور زخم لاحق ہوتے ہیں وہ ایک دم تو شفاء نہیں پا جایا کرتے۔شفاء کی کوشش کرتے ہیں اور جب اخلاص کے ساتھ کوشش کرتے ہیں تو ایک زخم ٹھیک کرنے کے بعد رک نہیں جایا کرتے بلکہ آگے بڑھتے ہیں اور دوسرے زخم کو بھی ٹھیک کرتے ہیں اور تیسرے کو بھی کرتے ہیں اور چوتھے کو بھی کرتے ہیں یہاں تک کہ بعض ایسے جسم ہیں جن پر مچھلی کے چانوں کی طرح زخم ہوتے ہیں اور ایک ایک زخم کو مندمل کرنے کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے۔تو جس کو اللہ سے تعلق ہے تو وہ پہلے اپنی ذات میں تبثل کا مضمون جاری کرے گا تب یہ حق اس کو عطا ہو گا کہ وہ بنی نوع انسان کو خدا کی طرف بلائے یہ ضروری نہیں کہ کامل شفاء کے بعد بلائے۔وہ ایک داغ بھی تو دکھا سکتا ہے کہ دیکھو مجھ میں یہ داغ تھا جو خدا نے اپنے فضل سے دور فرما دیا اور صحت عطا فرمائی تم بھی اسی راستہ کو پکڑو تم بھی اپنے رب سے تعلق باندھوتو اللہ تعالیٰ تمہیں شفاء عطا فرمائے گا اور اس کے نتیجہ میں تمہیں تو کل نصیب ہوگا۔دنا کے بعد تدلی کا جو مضمون ہے اس پر جیسا کہ میں نے بیان کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک انقلابی روشنی ڈالی ہے، عرفان کا ایک حیرت انگیز سمندر ہے جو یوں معلوم ہوتا ہے کہ جوش مار رہا ہے اور اس سمندر سے وہ موتی نکلے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریر میں جڑے ہوئے ہیں۔بہر حال جس رنگ میں بھی آپ اس کو بیان کریں جب آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان سے دَنا اور تدلی کا مضمون پڑھتے اور سمجھتے ہیں تب آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کیا مقام اور مرتبہ تھا۔اس سلسلہ میں جو تحریر میں نے آج پڑھنے کے لئے اختیار کی ہے اس کا تو اب وقت نہیں رہا میں گھڑی دیکھ رہا ہوں صرف دس منٹ رہ گئے ہیں اور وہ تحریر بی ہے اور اس میں بعض جگہ ٹھہر ٹھہر کر آپ کو مضمون سمجھانے بھی ہوں گے۔اسے تو میں اگلے جمعہ کے لئے رکھتا ہوں لیکن آنحضور ﷺ کی ایک اور تحریر دنا اور تدلی کے سلسلہ میں میں پیش کر دیتا ہوں اور آج کے خطبہ میں اسی پر اکتفا کروں گا۔فرماتے ہیں۔دَنَا فَتَدَلَّى (النجم : 9) آنحضور ﷺ کی شان میں آیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اوپر کی طرف ہو کر نوع انسان کی طرف جھکا۔۔۔۔66 ( ملفوظات جلد چہارم صفحه ۳۵۶)