خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 433
خطبات طاہر جلد ۱۱ 433 خطبہ جمعہ ۲۶ جون ۱۹۹۲ء اور دنیا کی طرف واپس لوٹنے سے پہلے یہ تبتل ضروری ہے اس لئے اس مضمون کا سمجھنا آپ کے لئے بہت ہی اہمیت رکھتا ہے۔جنہوں نے دنیا کو دعوت الی اللہ دینی ہے ہر دعوت الی اللہ دینے والا بعض حصوں میں دعوت دینے کا اہل ہے اور بعض حصوں میں دعوت دینے کا اہل نہیں ہے۔جن زخموں سے وہ شفاء پا چکا ہے جن زخموں کے چھلکے اس کے بدن سے اتر چکے ہیں جن زخموں کی کھجلی بھی مندمل ہو چکی ہے اور اس کے ناخن کو اپنی طرف کھینچتی نہیں ہے ان حصوں میں ایک انسان دعوت الی اللہ کا مستحق ہوتا جاتا ہے اور ان حصوں میں خدا کا تعلق قائم ہوتا چلا جاتا ہے۔یہ مضمون سمجھنا اس لئے ضروری ہے کہ اگر آپ یہ مضمون نہیں سمجھیں گے تو بڑی سخت مایوسی پیدا ہوگی۔اگر یہ انتظار کیا جائے کہ سارا بدن صحت مند ہو جائے سارے چھلکے اتر جائیں۔ان چھوڑی ہوئی جگہوں کو کامل شفاء ہو جائے اور چھلکوں کی ضرورت کا وہم و گمان بھی دوبارہ دل میں نہ گزرے اور ناخن اس طرف کبھی نہ بڑھیں تو اس کے بعد ہم پوری طرح تبتل الی اللہ کریں گے اور خدا کی طرف دنو کریں گے اگر یہ خیال ہو تو ہم میں سے اس زمانہ میں اللہ کی عطا کردہ توفیق سے شاید ہی کوئی ہو جسے یہ مرتبہ عطا ہو جائے ورنہ یہ ناممکن ہے لیکن قدم قدم بلندیوں کی طرف بڑھناممکن ہے۔اس لئے اس مضمون کو سمجھنے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں آپ سنیں گے تو پہلے آپ کا دل دہل جائے گا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان رفعتوں سے کلام کر رہے ہیں جن تک پہنچنے کی خدا نے آپ کو توفیق بخشی۔آنحضور ﷺ کی پیروی میں آپ نے بھی ایک تبتل اختیار فرمایا اور ان فضاؤں میں اُڑنے لگے جن فضاؤں کی طرف آنحضور ﷺ نے تمام بنی نوع انسان کو اڑنے کی دعوت دی تھی اور بلندیوں سے مخاطب ہور ہے ہیں۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہم نفس کے کیڑوں کو کوئی اوپر سے آواز دے رہا ہے کہ ادھر آؤ اور ادھر آؤ اور ادھر آؤ اور جس طرح میں جدو جہد کر کے اور قربانیاں کر کے ان بلند مقامات پر فائز کیا گیا ہوں تم بھی انہی مقامات کی طرف آگے بڑھو لیکن سننے والے کیڑے ہیں مکوڑے ہیں ایسے ہیں جن کے پر جل چکے ہیں اور ایسے ہیں جن کو ابھی پر عطا ہی نہیں ہوئے اور ہزار ہا قسم کی گندگیوں میں ملوث ہیں ان کے لئے کتنی لمبی منازل ہیں جن سے گزر کر انہیں پر پرواز عطا ہوگا۔ان باتوں کو سوچ کر انسان کا دل بیٹھ جاتا ہے لیکن جب آپ اس مضمون کو سمجھتے ہیں کہ بے شمار