خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 420
خطبات طاہر جلدا 420 خطبہ جمعہ ۱۹ جون ۱۹۹۲ء اور دکھائی نہیں دے گی اور اس عرفان کے نتیجہ میں اللہ کا جو عرفان اس زمانہ میں آپ کو عطا ہوا اس کی بھی کوئی اور مثال آپ کو دکھائی نہیں دے گی۔آپ فرماتے ہیں۔"۔۔ہمارے خدا میں بے شمار عجائبات ہیں مگر وہی دیکھتے ہیں جو 66 صدق اور وفا سے اس کے ہو گئے ہیں۔وہ غیروں پر جو اس کی قدرتوں پر یقین نہیں رکھتے اور اس کے صادق وفادار نہیں ہیں وہ عجائبات ظاہر نہیں کرتا۔۔۔۔کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه: ۲۱) پس آنحضرت ﷺ کو اگر خدا نے اپنے عجائبات کے اظہار کے لئے چنا ہے اور آپ کے قلب کو اپنے عرش کی تختہ گاہ بنانے کے لئے چنا ہے تو اس لئے کہ محمد مصطفی ﷺ میں اعلیٰ صفات پائی جاتی تھیں اور وہ صفات وہی ہیں جن کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ آپ صادق تھے اور وفادار تھے اور خدا تعالیٰ کی کامل قدرتوں پر کامل یقین رکھتے تھے۔فرماتے ہیں:۔۔۔۔کیا بد بخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتا نہیں کہ اس کا وو ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اُس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اُس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگر چہ جان دینے سے ملے اور یہ عل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔“ کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۱) ”اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو۔“ محرومو، دیکھیں اس تعلق میں کیسا پیارا لفظ بیان فرمایا ہے۔میں نے تو پا لیا ہے تم جو محروم ہو جنہوں نے نہیں پایا۔میں پانے کے بعد اور اس چشمے سے سیراب ہونے کے بعد تمہیں بلا رہا ہوں کس درد، بے قراری اور تڑپ کے ساتھ آپ بنی نوع انسان کو بلا رہے ہیں۔ایک پانے والا ہی اس شان اور اس کرب کے ساتھ اور اس بے قراری کے ساتھ بلا سکتا ہے محروم کبھی نہیں بلا سکتا۔بڑے ہی اندھے اور بد نصیب وہ لوگ ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس عبارت کو پڑھ کر بھی آپ کا عرفان حاصل نہ کر سکے۔ساری دنیا کے جھوٹے بھی مل کر اس شان کی سچی گواہی نہیں دے سکتے جو اپنے اندر اپنی صداقت کی عظمتیں خود رکھتی ہے۔کسی جھوٹے