خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 419
خطبات طاہر جلد ۱۱ 419 خطبہ جمعہ ۱۹ جون ۱۹۹۲ء دی که وَالنَّجْمِ إِذَا هَوای محمد مصطفی ﷺ کی صداقت کا ایک عظیم گواہ آنے والا ہے۔وہ ثریا سے آپ کی سچائی کی شہادتیں لے کر نیچے اُترے گا ، ایمان کو دوبارہ زندہ کرے گا اور بعد کے ہمیشہ ہمیش کے آنے والے زمانوں کے لئے یہ اعلان کر دے گا کہ جیسا کہ گزشتہ چودہ سو سال میں اس رسول نے کبھی کوئی ٹھوکر نہیں کھائی کبھی لغزش نہیں کھائی اس کی تعلیم کی حفاظت کی ذمہ داری آسمان کے طاقتور ذُو مرة خدا نے اٹھائی ہے میں اس کا گواہ ہوں کہ اسکی ہر بات سچی نکلی ہے۔انہی معنوں میں اللہ تعالیٰ نے جب آپ پر یہ مضمون ظاہر فرمایا اور آپ نے اس کی گواہی دی تو گویا وَالنَّجْمِ اِذَا هَوای کی زندہ مثال بن گئے۔ثریا کے اترنے اور گواہی کا مضمون کس شان کے ساتھ اس موقع پر پورا ہوتا ہے۔یہ الہام کا وہ مقصد تھا جو اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے انکسار اور تضرع اور دعا کے نتیجہ میں آپ پر ایک رویا کے ذریعہ روشن فرمایا گیا۔تو آپ فرماتے ہیں کہ محمد ﷺ نے دنو کیا اور پھر آپ ہی نے تدلی کیا۔جب خدا کو پالیا اور خدا کی صفات سے مرصع ہو گئے تب آپ کا دل بنی نوع انسان کی ہمدردی میں پگھلا اور اس بلندی سے نیچے اترے تا کہ آپ نے جس اعلیٰ مقصد کو حاصل کیا ہے اس میں تمام بنی نوع انسان کو شریک کریں اور ہر ایک کو بتائیں کہ میں نے ایک عظیم چیز کو پالیا ہے جس سے عظیم تر چیز کا تصور ممکن نہیں ہے۔تمام زندگیوں کا وہ سر چشمہ ہے۔سب نعمتوں کا وہ منبع ہے جیسا میں نے اس کو پایا ہے آؤ میں تمہیں بلاتا ہوں کہ تم بھی میرے ساتھ میرے پیچھے پیچھے آؤ۔میں تمہیں ان بلندیوں تک پہنچانے کی استطاعت رکھتا ہوں کیونکہ میں سب کچھ دیکھ آیا ہوں۔میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اپنے سارے وجود سے اس کو پایا۔میرے دل پر وہ خدا جلوہ گر ہوا اور میں ان سب نعمتوں کی طرف تمہیں بلانے کے لئے واپس آیا ہوں جو نعمتیں مجھے اپنی تمام شان کے ساتھ اور اتمام نعمت کے ساتھ عطا فرمائی گئی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اسی مضمون کو خدا تعالیٰ کے تعلق میں بیان فرمایا ہے اور یہ جو مشابہتیں ہیں یہ بتاتی ہیں کہ یہ عظیم روحانی کا ئنات ہے جن کے آپس میں گہرے اندرونی رشتے ہیں۔ایک جاہل ملاں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق بد تمیزی کی زبان کھولتا ہے تو اس بے چارے بد نصیب بد بخت کو پتا نہیں کہ وہ کیا کر رہا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا جیسا عرفان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا ہوا ہے اس کی مثال آپ کو کہیں