خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 418 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 418

خطبات طاہر جلدا 418 خطبہ جمعہ ۱۹ جون ۱۹۹۲ء طاقت میں یہ نہیں تھا کہ وہ محض اپنی طاقتوں سے خدا کو حاصل کر سکے، فَتَدَلی تو پھر خدا تعالیٰ نے تدلى فرمایا خود اترا اور اس پاک بندے کا ہاتھ تھام لیا۔اسے ان بلند یوں تک پہنچا دیا جن بلندیوں تک پہنچنے کا یہ حق دار تھا لیکن بشری تقاضوں کے پیش نظر الہی مدد اور نصرت کے بغیر اس کے لئے تنہا یہ کام کرنا مشکل تھا۔پس دنسو کے نتیجہ میں ایک ترکی ہوا اور اس تدلی اور دنو نے آپ کو ان معنوں میں ایک جان بنا دیا کہ جیسا کہ فرمایا: فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنی۔جس طرح آپس میں یوں جُڑی ہوئی دو کمانیں ہوں اور وتر ان کے بیچ کا ہو جو ان دونوں کو اکٹھا کر رہا ہو۔اس کا ایک اور معنی بھی ہے کہ دونوں کمانوں کا رُخ ہو اور پھر بیچ میں ایک وتر ہو۔یہ الگ مضمون ہے۔اس وقت میں اس پہلے والے مضمون کو بیان کرتا ہوں۔فرمایا کہ جس طرح دو کمانوں کو ایک وتر جو ان دونوں کے درمیان اکٹھا باندھا گیا ہو یک جان کر دیتا ہے اور ان کو جوڑنے کی وہی تنہا وجہ بن جاتا ہے اسی طرح مخلوق اور خالق کے درمیان محمد مصطفی ﷺ نے دیا اور ترکی کے نتیجہ میں وہ مرتبہ اور مقام حاصل فرمایا کہ آپ شفیع الوری بن گئے۔آپ کے ذریعے خالق کا مخلوق سے رشتہ اپنے کمال کو پہنچا اور تعلق کا یہ رشتہ اس سے بلند تر کبھی پہلے قائم نہیں ہواتھا اور بھی یہ مضمون اپنے معراج کو نہیں پہنچاتھا جیسا کہ حمد مصطفی ﷺ کے دنوسے صلى الله اور اللہ کی ترکی سے ایسا ہوا اور اس اشتراک کا نتیجہ کیا نکلا۔اگر صرف اپنی ذات میں آنحضور سے نے کچھ پایا ہے تو ہمیں کیا ؟ بنی نوع انسان کو اس سے کیا فائدہ ہے؟ اور اگر وہ پایا ہے لیکن خدا کی صفات نہیں پائیں تو پھر اس دنو کی کوئی بھی حقیقت نہیں رہتی۔اس موقع پر خدا کی جو سب سے بڑی شان جلوہ گر ہوئی ہے وہ اپنی طرف آنے والے ایک بندے کی خاطر خود جھکنا ہے اور یہ خدا کی شان انکسار ہے۔اس کو انکسار کا نام بے شک نہ دے سکیں لیکن شان وہی ہے کہ اتنا مستغنی ہونے کے باوجود، اتنا بلند مرتبہ ہونے کے باوجود کائنات میں سے کچھ بھی نہ ہو تب بھی اس کی شان غنی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔وہ ایسا مستغنی ہے لیکن پھر جھکتا ہے تو اگر اس عظیم شان سے جو اس موقع پر سب سے بڑھ کر جلوہ گر ہوئی ہے حضرت محمد مصطفی میں حصہ نہ پاتے تو یہ مضمون نامکمل رہتا۔آپ کا اتصال بے معنی ہو جاتا تو خدا تعالیٰ نے ان ضمائر کو تعین کئے بغیر چھوڑ کر کیسی شان کا مضمون پیدا فرما دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اس مضمون کو الہام کر کے پہلی آیت کے حق میں بھی گواہی دے