خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 417
خطبات طاہر جلد 417 خطبہ جمعہ ۱۹ جون ۱۹۹۲ء فرماتے ہیں۔دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى جب یہ آیت شریفہ یعنی دَنَا فَتَدَلی نازل ہوئی جس کا مطلب ہے کہ قرب ہوا اور نیچے جھک گیا۔فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ تو دو کمانوں کا ایک واحد وتر بن گیا۔فرماتے ہیں جب یہ آیت شریفہ جو قرآن شریف کی آیت ہے الہام ہوئی یعنی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس کے خاص معنی سمجھانے کی خاطر تبر کا اللہ تعالیٰ نے یہی آیت الہام فرمائی۔تو اس کے معنے کی تشخیص اور تعین میں تامل تھا۔میں مترڈ دتھا کہ یہ آیت میرے متعلق کیوں نازل ہوئی اگر یہی مطلب لیا جائے کہ یہ تمہارے متعلق ہے تو فرمایا کہ مجھے تامل تھا۔میں اس کو قبول نہیں کر سکتا تھا اور تشخیص نہیں کر سکتا تھا تب طبیعت دعا کی طرف مائل ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ سے گریہ وزاری کی کہ اے خدا! اس آیت کا مجھ پر نازل فرمانا کیا مقصد رکھتا ہے۔اس معنی کو خود مجھ پر روشن فرما دے۔فرماتے ہیں ،اسی تامل میں کچھ خفیف سی خواب آ گئی۔ایک نیند کی غنودگی کی حالت طاری ہو گئی۔اور اس خواب میں اس کے معنے حل کئے گئے۔اس کی تفصیل یہ ہے۔’دنو سے مراد قرب الہی ہے۔۔۔یعنی بندے کا خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ، اس کی طرف بڑھنا اور۔۔۔تدلی سے مراد وہ هبوط اور نزول ہے کہ جب انسان تـــخــلــق باخلاق اللہ حاصل کر کے اس ذات رحمان رحیم کی طرح شفته على العباد عالم خلق کی طرف رجوع کرے (براہین احمدیہ ہر چہار حص روحانی خزائن جلد اصفحہ: ۵۸۸) اب دیکھیں اس مضمون کے ساتھ اس آیت میں کتنی عظیم رفعت عظمت اور وسعت دکھائی دینے لگتی ہے۔جو پہلے ہی موجود تھی لیکن کبھی انسان کی نظر اس بلندی تک نہیں اٹھی تھی۔جس بلندی تک الہام نے اور پھر خود اللہ تعالیٰ کی نازل فرمودہ تشریح نے اس مضمون کو او پر پہنچا دیا ہے۔اس نظر کو اس حد تک بلند کر وا دیا کہ هُوَ بِالْأُفُقِ الأغلى کا مضمون ذہن میں روشن ہو جاتا ہے اور اب سمجھ آتی ہے کہ بیک وقت دونوں معنے کیوں درست ہیں۔اس آیت کا پہلا معنی یہ بتاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ اپنی تمام تر تمناؤں اور خواہشات کو خالص خدا تعالیٰ کی خاطر کر کے اپنے رب کی طرف بلند ہوئے اور جب اپنے تمام دین کو کلیۂ خالص کر کے اسی کے ہو گئے اور اس کی طرف بڑھے تو انسانی الله