خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 416 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 416

خطبات طاہر جلدا 416 خطبه جمعه ۱۹ جون ۱۹۹۲ء تک بلند کیا گیا ہے اور افق اعلیٰ سے مراد وہ افق ہے جس سے بلند تر کوئی افق ہو نہیں سکتا اور معراج کے افق کے سوا اور کسی افق کا سوا اور کسی افق کا یہاں ذکر نہیں ہے کیونکہ معراج کا افق وہ تھا جس پر حضور ا کرم ما کے ساتھ کوئی اور کبھی شریک نہیں ہوا نہ ہو سکتا ہے نہ کبھی ہو سکے گا۔ تمام دوسرے انبیاءا۔ نہ صلى الله صلى الله علوم ا ۔ تمام دوسرے انبیاء اپنے اپنے افق وہ تک بلند ہوئے اور پھر اس اُفق پر قرار پا کر اپنی قوم کی طرف واپس آئے لیکن افق اعلیٰ تک سوائے حضرت محمد ﷺ کے اور کوئی بلند نہیں ہوا جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ تمام صفات حسنہ اور وسه اس کے کمالات کی وہ ہرشان جس کا انسان متحمل ہو سکتا تھا ، جس تک انسان رسائی پا سکتا تھا اور اسے صلى الله قبول کرنے کی اس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے طاقت بخشی گئی تھی ، وہ خدا مکان تک آنحضرت کو عطا ہوئی اور اس ظرف کے مطابق اس کے کناروں تک خدا تعالیٰ نے اسے اپنے جلوے سے بھر دیا۔ یہ افق اعلیٰ تک آپ کا معراج ہے اور پھر چھوڑ کر نہیں گیا۔ بار بار اس جلوے میں تموج ضرور آیا ہے لیکن عرش پھر ہمیشہ محمد ﷺ کے قلب پر ہی رہا ہے اور ہمیشہ قلب محمد مصطفی ﷺ جس حالت اور جس شان میں پایا جاتا ہے اس میں خدا تعالیٰ کا عرش ہمیشہ اسی طرح قرار پکڑا رہے گا اور جلوہ گر رہے گا۔ پھر فرمایا تمَّ دَنَا فَتَدَلَّى دَنَا سے مراد جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ۔ افق اعلیٰ کی طرف دیا ہے۔ مفسرین نے بالعموم اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ محمد مصطفی اللہ نے دنا کیا یعنی آپ خدا کی طرف بلند ہوئے اور اس کے قریب بڑھے فَتَدَنی اور اللہ تعالیٰ نیچے اترا اور گویا کہ بین بین ایک مقام ایسا تھا جہاں جا کر انسانیت اور الوہیت کا اتصال ہوتا ہے۔ ہیں اور حضرت اقدس محمدﷺ نے دینا فرمایا اور خدا تعالیٰ نے تدلی فرمایا۔ یہ معنی مشہور اور عام اور تفسیر صغیر میں بھی حضرت مصلح موعودؓ نے یہی معنی معنی کئے ہیں ۔ اس معنی کو غلط نہیں کہا جا سکتا کیونکہ قرآن کریم نے بعض دفعہ ضمائر کو مجہول چھوڑ دیا اور وضاحت کے ساتھ ان کی تعیین نہیں فرمائی تاکہ تھوڑے لفظوں میں ایک سے زیادہ مطالب بیان ہوسکیں۔ پس اس پہلو سے ہر گز تعجب نہیں کہ دنا اور تدٹی کی ضمائر کو خدا تعالیٰ نے واضح کئے بغیر کیوں چھوڑ دیا تا کہ اس سے اور بہت سے مضامین نکلیں لیکن ایک وہ مضمون جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قلب پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے وہ اس آیت کا ایک ایسا مضمو کا ایک ایسا مضمون ہے جو اس آیت کی شان کو افق اعلیٰ تک پہنچا دیتا ہے اور اس سے بلند مرتبہ مضمون آپ کے علم میں دنیا کی کسی تفسیر میں نہیں آئے گا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام