خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 415 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 415

خطبات طاہر جلد ۱۱ 415 خطبہ جمعہ ۱۹ جون ۱۹۹۲ء والا بھی ایسا ہے کہ اس سے بڑھ کر مضبوط قوای کی کوئی چیز ممکن نہیں ہے یعنی خالق و مالک اللہ تعالیٰ خود اس کا اُستاد ہے اور وہ شَدِیدُ القوی جس کی صفات بہت ہی عظیم اور غیر معمولی طاقتیں رکھتی ہیں ایسی طاقتیں جن کی کوئی اور مثال تمہیں کہیں دکھائی نہیں دے گی۔وہ استاد ہے جس نے اس شاگرد یعنی محمد مصطفی ﷺ پر وحی فرمائی اور خود اسکو سکھایا یعنی وحی فرمانے کے بعد علم کا مضمون بھی اس میں بیان فرمایا گیا جیسا کہ سورہ جمعہ میں فرمایا گیا ہے کہ آیات پڑھ کر سُناتا ہے اور پھر علم دیتا ہے تو وہی ترتیب ہے اور وہی مضمون کی گہرائی اور وہی وسعتیں ہیں لیکن ایک اور شان اور ایک اور رنگ کے ساتھ اس مضمون پر روشنی ڈالی جارہی ہے۔فرمایا ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى۔خدا تعالیٰ اس مضمون کو بار بار ظاہر کرنے والا ہے۔اس جلوہ کو کئی رنگ میں ظاہر فرمانے والا ہے جس کا ایک مطلب تو یہ ہے اور اول مطلب یہی ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ پر خدا صرف ایک دفعہ جلوہ گر نہیں ہوا بلکہ بار بار ہوا ہے اور بار بار عظیم شان کے ساتھ ہوا ہے اور اس جلوہ گری نے بالآخر ایک ایسی شکل اختیار فرمالی که گویا مستقل محمد مصطفی ﷺ کے ساتھ رہنے لگا اور آپ کے وجود پر اپنا عرش پکڑ لیا۔چنانچہ فرماتا ہے، ذُومِرَّةٍ۔۔وہ بار بار جلوہ دکھانے والا خدا ہے ، بار بار اپنی طاقتوں کو ظاہر کرنے والا خدا ہے۔فَاسْتَوی پھر وہ عرش پر مستحکم ہو گیا اور یہاں عرش سے مراد قلب محمد مصطفی اللہ کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا کیونکہ یہی مضمون بیان ہو رہا ہے۔بعد میں ان آیات میں اس قلب کا خصوصیت سے ذکر فرمایا جائے گا۔جیسا کہ فرمایا: مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأی (النجم :۱۲) کہ اس قلب نے جو کچھ دیکھا ہے، اس قلب پر خدا کا جو جلوہ ظاہر ہوا اور وہاں قرار پکڑ گیا اس کے متعلق یہ قلب جو کچھ بتاتا ہے جھوٹ نہیں بتا تا۔بالکل سچی باتیں بتا رہا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے کہ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَغلى باوجود اس کے کہ خدا افق اعلیٰ پر تھا اور افق اعلیٰ پر ہے۔اس کے قریب آنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ کی بلندشان میں کسی قسم کی کمی آئی ہو اور وہ نیچے اتر آیا ہو۔اپنے وجود اور تمکنت اور شان کے لحاظ سے اس کے اندر کسی قسم کا کوئی تنزل ممکن نہیں ہے۔پھر حضرت محمد ﷺ کی لقاء اپنے رب سے کیسے ہوئی ؟ فرماتا ہے۔ثُمَّ دَنَا فَتَدَثْى وه افق اعلیٰ پر تھایا ہے اور محمد اللہ نے معراج کیا ہے اُس اُفق اعلیٰ تک بلند ہوا ہے۔یہ بجا ہے کہ اللہ کی طاقت اور اس کی راہنمائی اور اس کی غیر معمولی نصرت کے ساتھ ایسا ہوا مگر محمد اللہ کا مرتبہ افق اعلیٰ الله وہ