خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 37 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 37

خطبات طاہر جلد ۱۱ 37 37 خطبہ جمعہ ۷ ارجنوری ۱۹۹۲ء تلاش میں ساری دنیا میں باہر نکل گئے بلکہ اردگرد سے، دور دور کی جماعتوں سے احمدی بچے بڑے شوق کے ساتھ روحانی کشش کے علاوہ اپنے روزگار کی تلاش میں بھی قادیان آنا شروع ہو جائیں گے اور اس طرح قادیان کی آبادی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔قادیان کی آبادی کا ایک حصہ ایسا ہے جس نے بہر حال قادیان کو سر دست چھوڑنا ہی چھوڑنا ہے اور وہ خواتین ہیں، بچیاں ہیں۔چھوٹی آبادی میں رشتوں کے بہت مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔قادیان کے مرد تو تلاش روزگار میں باہر نکل جاتے ہیں۔قادیان کے نکلے ہوئے نوجوان ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔مڈل ایسٹ وغیرہ میں بھی ہیں اور باہر ان کی شادیاں بھی ہو جاتی ہیں۔بچیاں پیچھے خالی رہ جاتی ہیں اور ان کے لئے لازم ہے کہ باہر شادیاں کریں کیونکہ وہاں قادیان میں بسنے والے مقامی مرد تو اتنی تعداد میں موجود ہی نہیں ہوتے۔اس لئے تمام دنیا کی جماعتوں کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ برکت کے لئے اور خدمت کے لئے جہاں تک جس کے لئے ممکن ہو وہ قادیان سے رشتے تلاش کرے اور اس سلسلہ میں ناظر صاحب اعلیٰ قادیان کو براہِ راست بھی لکھے اور مجھے بھی لکھے اور ناظر صاحب امور عامہ سے بھی بیشک براہِ راست رابطہ کرے۔بہت سی ایسی بچیاں ہیں جو بہت ہی عمدہ تربیت یافتہ ہیں لیکن تعلقات کی کمی کی وجہ سے ان کے گرد وہ جو ایک قیدی ہے اس میں محدود ہونے کی وجہ سے وہ اور ان کے والدین نہیں جانتے کہ اچھا رشتہ کہاں مقدر ہے۔تو ساری دنیا کی جماعتوں کو منظم طور پر اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور میں سمجھتا ہوں کہ امراء اگر وہاں پر رابطہ کر کے ان کی بچیوں کے کوائف اس شرط پر منگوائیں کہ تصویروں کے ساتھ بھجوائیں تفصیل سے بھیجیں ہم اپنی تحویل میں رکھیں گے ، عزت واحترام کے ساتھ ان قواعد کا خیال رکھیں گے اور مناسب رشتوں کی راہنمائی کریں گے کہ فلاں فلاں جگہ وہ کوشش کر لیں تو اس سے اس مسئلہ کے حل میں بہت مدد ملے گی۔جماعت احمدیہ کا رشتہ ناتے کا جو انتظام ہے، اس میں یہ ذمہ داری نہ جماعت قبول کرتی ہے نہ کر سکتی ہے اور عقلاً کرنی بھی نہیں چاہئے کہ دونوں فریق کو یقین دلائے کہ رشتہ اچھا ہوگا اور آپ کرلیں گویا کہ جماعت کی ذمہ داری ہے۔یہ بالکل نامناسب بات ہے۔نہ جماعت ایسا کرے گی، نہ جماعت سے ایسی توقع رکھنی چاہئے ورنہ ہر رشتہ جس میں خدانخواستہ کوئی نہ کوئی الجھن پیدا ہو جائے اسکی ذمہ داری جماعت پر تھوپی جائے گی۔جماعت کی ذمہ داری یہ ہوگی کہ وہ حتی المقدور اپنے علم کے