خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 414 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 414

خطبات طاہر جلدا 414 خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۹۲ء کر زمین کی طرف جھک جا نالا ز ما قیامت کی بربادی پیدا کر دے گا اور سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ساری کائنات کا نظام درہم برہم ہو جائے گا اس لئے لازماً اس کو معنوی طور پر سمجھنا ہوگا اور اس زبان کو مذہب کی زبان کے ساتھ ملا کر پڑھنا ہو گا۔فرمایا وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَی۔ایک ایسا وقت آئے گا کہ شریا سے گواہی اترے گی شریا کے اترنے سے مراد یہ ہے کہ ثریا سے گواہی زمین پر اترے گی اور وہ اعلان یہ کرے گی کہ میرے آقا ومول محمد مصطفی ﷺ ایک لغزش نہ کرنے والے پاک رسول ہیں جن کی تعلیم کو زمانہ بدل نہیں سکتا جن کی تعلیم کو زمانہ ہمیشہ کا نقصان پہنچا نہیں سکتا ، اس تعلیم کی حفاظت آسمان سے کی جائے گی اور آسمان سے کی جارہی ہے۔اسی مقصد سے خدا تعالیٰ نے اس گواہ کوثریا تک بلند فرمایا اور پھر ثریا سے نیچے اُتارا۔اسی مضمون کو آگے جا کر قرآن کریم اس سے بہت بڑھ کرشان کے ساتھ دُہرانے والا ہے۔حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کے ایک غلام کی خبر ہے کہ وہ ثریا تک بلند ہو گا اور ثریا سے ایمان کو واپس لا کر زمین پر یہ گواہی دے گا کہ محمد مصطفی میں سچے ہیں اور آپ ہی کا دین ہے جو سب دنیا کی نجات کا موجب بن سکتا ہے۔اس کے سوا کوئی نجات کی راہ نہیں لیکن وہ آقا جس سے یہ فیض پائے گا اس کا مرتبہ کیا ہے ، اس نے کیا سیکھا اور کس سے سیکھا تھا یہ مضمون ہے جو اس کے بعد بیان ہوا ہے۔فرمایا وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى اس کی گواہی میں یہ بات بھی شامل ہوگی کہ محمد مصطفی ﷺ جو کچھ بیان فرماتے ہیں اپنی ذات سے اپنی خواہشات کے مطابق بیان نہیں فرماتے ، آپ کی تمناؤں کا اس میں کوئی بھی دخل نہیں۔صلى الله پس جھوٹے دعویدار جو کہتے ہیں کہ آؤ! ہم تمہیں بھلائی کی راہ دکھاتے ہیں ، اعلیٰ مقاصد کی طرف لے کر جاتے ہیں ان کی طرف نظر ڈالیں تو سوائے انبیاء کے باقی ضرور کسی نہ کسی شک میں مبتلاء ہوتے ہیں اور جب بلاتے ہیں تو دل کی کوئی تمنائیں ان کے بلانے کے اخلاص کو گندا کر چکی ہوتی ہیں۔بہت سی خواہشات ہیں۔لیڈر بننے کی خواہشات، راہنما بننے کی تمنا اور دیگر فوائد حاصل کرنے کی تمنائیں، ان کے اس دعوے کو گدلا کر دیتی ہیں اور میلا کر دیتی ہیں لیکن ایک وہ وجود ہے یعنی محمد مصطفیٰ ہ جس کی دعوت میں نفس کی کوئی بھی میل نہیں، ایک ذرہ ایک ادنی سی میل بھی نہیں ہے۔اپنی طرف سے کہتا ہی کچھ نہیں، وہی کچھ کہتا ہے جس کی اُس پر وحی فرمائی جاتی ہے اور وحی فرمانے والے میں کوئی کمزوری نہیں۔دیکھیں اس مضمون کو کتنا طاقتور بنا دیا گیا ہے۔عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوی۔سکھانے