خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 409
خطبات طاہر جلدا 409 خطبه جمعه ۱۹ جون ۱۹۹۲ء بنائے گئے ؟ کس طرح آپ کو تیار فرمایا گیا ؟ یہ وہ مضمون ہے جو ان آیات میں ملتا ہے جن کی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ النَّجْمِ إِذَا هَوى میں ثریا ستارے کو گواہ بناتا ہوں ۔ کس وقت وہ گواہ بنے گا ؟ جب وہ نیچے جھک جائے گا اور دنیا کے قریب آجائے گا۔ یعنی مستقبل کا کوئی گواہ ہے جس کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے ۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ جب بھی وہ جھکتا ہے اور قریب آتا ہے۔ جہاں تک اس معنی کا تعلق ہے بالعموم ترجمہ کرنے والوں کا رجحان اس دوسرے معنی کی طرف جاتا ہے حالانکہ ثریا ستارا تو ویسے کبھی بھی زمین کی طرف نہیں جھکتا۔ معنوی لحاظ سے مستقبل میں اس نے ضرور جھکنا تھا اور انہی معنوں میں قرآن کریم نے ایک پیشگوئی کے رنگ میں اس گواہ کو پیش فرمایا ہے ۔ مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوی یہ جو تمہارا ساتھی ہے یعنی محمد صلى الله مصطفی ﷺ اس نے ہرگز اپنی راہ کو کھویا نہیں یعنی جس راہ پر وہ چلا ہے اس راہ کو آخر تک مضبوطی سے پکڑے رکھا ، وہ سیدھی راہ تھی ، مقصد تک پہنچانے والی راہ تھی اور اس راہ کو اس نے گم نہیں کیا ، اس سے بھٹکا نہیں وَمَا غَوی اور غوی کا مطلب ہے گمراہ نہیں ہوا یعنی راہ چھوڑ کر ، بھول کر کسی پہلو سے بھی وہ اس راہ سے الگ نہیں ہوا ۔ وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَی ۔ یہ وہ شخص ہے جو تمنا کے مطابق کلام نہیں کرتا بلکہ حقیقت پر مبنی کلام کرتا ہے خواہشوں پر مبنی کلام نہیں کرتا اِنْ هُوَ إِلَّا وحی یوحی وہی کہتا ہے جو اس پر الہام کیا گیا ہے۔ جس کی اس پر وحی فرمائی گئی ہے۔ پھر فرمایا: يوحى عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوی ۔ اس مضمون کو جو یہ تمہارے سامنے بیان فرماتا ہے بہت ہی طاقتور صلاحیتوں والے نے اس سے بیان فرمایا ہے یعنی خدا تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ ذُو مِرَّةٍ ۔ وہ بار بار اپنے جلوؤں کو دہراتا ہے۔ بار باران صفات کی جلوہ گری فرماتا ہے جن صفات کا اس مضمون سے تعلق ہے یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی بعثت اور بعد میں ہونے والے واقعات ۔ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَی ۔ وہ خدا جس نے اس بندے یعنی محمد ﷺ سے کلام کیا ہے اس نے اس وقت کلام کیا جب وہ افق اعلیٰ پر تھا۔ اس مضمون کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ ہر نبی کا ایک افق ہے وہ نبی اُس اُفق سے بلند حرکت خدا کی طرف نہیں کر سکتا۔ اس کی ایک استعداد ہے اس استعداد سے بڑھ کر آگے قدم نہیں رکھ سکتا اور ہر دوسرے نبی کا افق حضرت محمد مصطفی ﷺ کے افق سے نیچے تھا تو فرمایا اس خدا نے اس سے کلام کیا ہے جو بلند ترین افق پر تھا اور اس سے ملنے کے لئے اسے اس صلى الله