خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 407 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 407

خطبات طاہر جلد ۱۱ 407 خطبہ جمعہ ۱۹ جون ۱۹۹۲ء حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ذات کا عرفان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سب سے بڑھ کر حاصل ہوا۔دَنَا فَتَدَٹی کے نتیجہ میں آپ شفیع الوری بن گئے۔خطبه جمعه فرموده ۱۹ جون ۱۹۹۲ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کیں۔وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى اِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى ) عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى ذُومِرَّةٍ فَاسْتَوى ) وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى ثُمَّ دَنَا فَتَدَلى ) فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى (النجم: ۲ تا ۱۰) پھر فرمایا:۔دنیا میں بلند مراتب کی طرف یا اعلیٰ مقامات کی طرف یا اونچے مقاصد کی طرف راہنمائی کرنے والے تین قسم کے ہو سکتے ہیں۔ایک وہ جو آثار سے یہ اندازہ لگائیں کہ کوئی اعلیٰ چیز جو مقصود اور مطلوب ہے کس طرف ہو گی اور پھر ان کو جو آثار کا مطالعہ کر کے براہ راست نتائج اخذ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے ان کو اپنے پیچھے آنے کی دعوت دیتے ہیں اور اس طرح ان کو اعلیٰ اور بلند مقاصد کی