خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 391
خطبات طاہر جلد ۱۱ 391 خطبه جمعه ۵/ جون ۱۹۹۲ء یسے لیں گے۔ان کو پتا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھل ان سے سنبھالا نہیں جاسکتا۔تو یہ پھل تو بہت ہی قیمتی ہے۔اس پھل کے لئے ہمیں کثرت سے ایسے واقفین عارضی چاہئیں جو اس پھل کی لذت سے خود بھی وہاں مستفید ہوں اور یہ پھل ایسا ہے جس کو جتنا کھائیں گے اتنا ہی یہ بچتار ہے گا اور دائی ہوتار ہے گا۔یہ ایسا پھل نہیں جسے آپ کھا کر ختم کر سکیں لیکن سنبھالنا ضروری ہے۔پس اس کو سنبھالنے کے لئے وہ خاندان جن میں سیر کا بھی اور خدمت دین کا بھی جذبہ ہے ان کے لئے ایک بہترین موقع ہے۔آخری چند منٹ میں میں روس سے متعلق بھی کچھ توجہ دلانا چاہتا ہوں۔خدا کے فضل سے اب روس میں بھی بہت تیزی سے احمدیت میں دلچسپی پیدا ہورہی ہے اور جتنے وفد یہاں سے گئے ہیں وہ بہت ہی مثبت نتائج کی خوشخبریاں دے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر وفد کے دورہ کے دوران بڑے بڑے رابطے پیدا ہوئے اور اس دفعہ جب مولوی منیر الدین صاحب شمس گئے ہیں تو کئی جگہ باقاعدہ ٹھوس جماعتیں پیدا ہوئی ہیں۔بڑے اچھے اچھے صاحب اثر لوگ احمدیت سے مستقلاً وابستہ ہوئے ہیں اور وہاں جا کر پتا چلا ہے کہ کس طرح غیر معمولی طور پر احمدیت کا پیغام قبول کرنے کے لئے وہاں صلاحیت موجود ہے۔بعض لوگوں نے اپنے طور پر جماعت کا لٹریچر وہاں پھیلا نا شروع کیا ہے۔۔U۔S۔S۔R یعنی یونین آف سوویت سوشلسٹ ریپبلک جو پہلے ہوا کرتی تھی اب یہ ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے یا عملاً ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے اس کو عام باہر کی زبان میں Russia کہتے ہیں حالانکہ رشیا ان میں سے صرف ایک ریاست کا نام ہے تو جب میرے منہ سے رشیا نکلے تو مراد یہ ساری ریاستیں ہیں۔ان میں جو مسلمان ریاستیں ہیں ان میں تو اس پیغام کے نتیجہ میں ایسا مثبت رد عمل دکھایا گیا ہے کہ کئی اخبارات نے فوری طور پر اسے اپنے اخبارات میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور روس یعنی جو واقعہ رشیا ہے اس میں بھی ایک وسیع چھپنے والے اخبار نے بڑے شوق سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں یہ پیغام اپنے ملک کے لئے شائع کروں گا اور سب کا یہ ردعمل تھا کہ اہل روس کو اس کی شدید ضرورت ہے۔وہاں جو جائزے لئے گئے ہیں ان کے نتیجہ میں واقفین عارضی کے لئے سب سے بڑی مشکل یہ بنتی تھی کہ اگر وہ مثلاً ماسکو جا کر ٹھہریں یا لاعلمی کی حالت میں سفر کریں تو حکومت کا قانون ایسا ہے کہ باہر کے مسافر کو بہت زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔یعنی ماسکو میں روزانہ ایک سو تھیں