خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 390
خطبات طاہر جلد ۱۱ 390 خطبه جمعه ۵/ جون ۱۹۹۲ء لائے ہوئے تھے۔انہوں نے تین دن کے قریب وہاں قیام کیا اور ان کی حالت میں بھی میں نے غیر معمولی پاک تبدیلی دیکھی۔تو امید ہے کہ انشاء اللہ تعالی اہل سپین اب پہلے کی نسبت بڑھ کر اسلام کی آواز پر لبیک کہیں گے ماحول ایسا دکھائی دیتا ہے۔میں نے سوال و جواب کی جتنی مجالس وہاں منعقد کی ہیں اس سے میں سمجھتا ہوں کہ اب ان لوگوں میں بہت جلد تبدیلی کے امکانات پیدا ہور ہے ہیں۔ایک مجلس میں عیسائیت کو خالصہ عقلی لحاظ سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور مجھے ڈر تھا کہ وہ چونکہ لمبے عرصہ سے متشد دعیسائیوں کا ملک رہا ہے اس لئے ہو سکتا ہے کہ وہ ناراض ہو جائیں بعض لوگ ناپسندیدگی کے اظہار کے طور پر مجلس سے اٹھ کر چلے جائیں لیکن ہر موضوع پر تفصیلی بحث کے بعد جب میں سوالات کا موقع دیتا تھا تو اکثر سر جھکے رہے اور اگر کسی نے سوال کیا بھی تو وہ اس کا جواب سنتے ہوئے بہت جلدی تائید میں سر ہلانے لگ گیا اور جب وہ دوروزہ مجالس اپنے اختتام کو پہنچیں اور میں نے پھر اعلان کیا کہ کوئی سوال کرنا ہو تو اب پھر بتا ئیں تو کوئی شخص بھی کوئی سوال پیش نہ کر سکا جس سے معلوم ہوتا تھا کہ سب مطمئن ہیں۔بعض خاندان بطور خاندان آئے ہوئے تھے۔وہ ایک مجلس کے بعد بہت دیر تک وہاں رہے۔وہیں کھانا کھایا اور بہت گہری دلچسپی لینے لگے تو اس لئے یہ مشاہدہ تو میں خود کر چکا ہوں کہ سپین میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں اور اسلام کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے۔اور امید ہے کہ واقفین عارضی بھی انشاء اللہ تعالیٰ اس عظیم موقع سے فائدہ اُٹھائیں گے۔درخت کبھی ایسی حالت میں بھی ہلائے جاتے ہیں جب پھل نہیں ہوتا کبھی ایسی حالت میں بھی کہ پھل کچا ہوتا ہے اور کبھی ایسی حالت میں بھی کہ پھل پکا ہوتا ہے۔ہم بچپن میں جب شکار وغیرہ پر جاتے تھے تو کئی جگہ بیریوں کو ہلاتے تھے۔پھل جب کچے ہوتے ہیں تو وہ اُترتے نہیں اور اگر اُترے بھی تو کوئی تلخ پھل ہاتھ آتا ہے لیکن جب پھل تیار ہوتو ذرا سا جھکور نا دینے سے ہی کثرت سے پھل گرتا ہے کہ انسان سے سنبھالا نہیں جاتا۔تو مجھے لگ رہا ہے کہ اب اللہ کے فضل کے ساتھ بہت سے ممالک میں پھل پکنے لگے ہیں اور ہمیں ان کو جھنجوڑ کر پھل اکٹھا کرنے والے کثرت سے درکار ہیں۔جب پھل پکنے کا وقت آتا ہے تو پھل کا سنبھالنا واقعہ مشکل ہو جاتا ہے۔اہل یورپ جانتے ہیں کہ جب یہاں چیریز (Cherries) کے پکنے کا وقت آتا ہے تو زمیندار کس طرح بڑے بڑے بورڈ لکھ کر لگا دیتے ہیں کہ آؤ جتنا چاہتے ہو تو ڑ کر خود کھاؤ اور جتنے لے کر جاؤ گے صرف اس کے