خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 385 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 385

خطبات طاہر جلد ۱۱ 385 خطبہ جمعہ ۵/ جون ۱۹۹۲ء۔ٹائلٹ الگ صحن ہر لحاظ سے Furnish اگر اس معیار کا ہوٹل وہاں تلاش کیا جائے تو چھپیں تمہیں پاؤنڈ روزانہ خرچ پر وہ عمارت میسر آئے گی تو بہر حال یہ تحریک جدید ان سے طے کرے گی اگر واقفین عارضی کو سو پاؤنڈ ہفتہ آسان دکھائی دے تو وہ سو پاؤنڈ ہفتہ میں اس بنگلہ میں ٹھہر سکتے ہیں اور ساتھ بیٹھنے والے کمرہ میں ان کے ایسے بچے سو سکتے ہیں جو گند کرنے والے نہ ہوں اور ایسے شریر نہ ہوں جو ہاتھ سے نکلے جاتے ہوں اور ان کو سنبھال کر رکھنا ممکن نہ ہو۔ایسے بچوں کو تو واقفین ساتھ نہ ہی لے کر جائیں تو بہتر ہے مگر مہذب عقل والے بچے اور نسبتاً پختہ عمر کے بچے ساتھ ہوں تو تین چار بچے زائد وہاں آرام سے سو سکتے ہیں۔ہمارے بچے بھی اسی فیملی روم میں سوتے رہے یا اس کو Furnished room کہہ لیجئے وہاں سوتے رہے تو ایک فیملی سے اگر ایک سو بیس چھپیس پاؤنڈ ہفتے کا کرایہ وصول کر لیا جائے تو اسے جماعت اپنے فائدے میں استعمال کر لے گی اور وقف کی جو یہ شرط ہے کہ اپنے خرچ پر رہے وہ شرط بھی پوری ہو جائے گی اور باہر ٹھہر نے کی نسبت ہر قسم کی زیادہ سہولت یہاں میسر آئے گی اور اسی طرح مبلغ کی راہنمائی بھی میسر آئے گی تو میں اُمید رکھتا ہوں کہ اس تجربہ سے لوگ فائدہ اٹھائیں گے۔بہت سے احمدی احباب سیر و سیاحت کے لئے گرمی کی چھٹیوں میں جاتے ہیں اگر وہ وقف کرلیں یا سیر و سیاحت کی نیت سے ہی جائیں تو ان کو بھی وہاں ٹھہرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ اپنی سیر کے ساتھ خدمت دین کو بھی شامل کریں اور جس حد تک ممکن ہے دونوں کام بیک وقت سر انجام دیں تو اس بنگلہ سے یہ ایک مستقل فائدہ پہنچ جائے گا اور اس کا جاری ثواب ان خدمت کرنے والوں کو بھی پہنچتا رہے گا جنہوں نے بڑی محنت سے اس بنگلہ کو تیار کیا ہے۔اس کے علاوہ سپین سے متعلق میں یہ بات آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ جب بھی ہم وہاں جاتے ہیں اور بہت عظیم الشان پرانی عمارتوں کو دیکھتے ہیں تو بڑی حسرت سے اسلام کی ترقی کے اس دور پر نظر ڈالتے ہیں جس کے کھنڈرات باقی بچے ہوئے ہیں اور ان عظیم الشان سلطنتوں کی کامیابیوں سے متاثر ہوتے ہیں اور ان ناکامیوں سے دُکھ اُٹھاتے ہیں جو کہ بالآخر وہاں اسلام کے صفایا پر منتج ہوئیں لیکن ان عمارتوں کو دیکھتے ہوئے ، ان شاندار محلات سے محظوظ ہوتے ہوئے ،ان کھنڈرات کی موجودہ حالت سے دُکھ اُٹھاتے ہوئے بہت کم ہیں جو حقیقت حال کا تجزیہ کر سکتے ہیں