خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 369
خطبات طاہر جلد !! شخص پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔ 369 خطبه جمعه ۲۹ رمئی ۱۹۹۲ء خدام الاحمدیہ کی تربیتی کلاسز لگا کرتی ہیں، انصار اللہ بھی کرتے ہیں ، لجنہ بھی ، کتنے ہیں جو ان میں آتے ہیں؟ کتنے فائدہ اٹھاتے ہیں؟ وہ چند گنتی کے لوگ جن کے دل میں پہلے سے ہی احساس ہوتا ہے کہ ضرورت ہے۔ جب آواز پہنچتی ہے کہ ایسا انتظام ہو گیا ہے تو وہ شوق سے مزے سے اس میں حصہ لیتے ہیں لیکن وہ لوگ جن کے دل میں مربی پیدا نہیں ہوتا ان تک لاکھ آوازیں پہنچائی جائیں ، ہر خطبے میں اعلان ہو بلکہ ہر نماز میں بھی اعلان کیا جائے تو ایسے لوگ جن کے دل کے اندر سے طلب پیدا نہیں ہوتی وہ سُنی ان سنی کر کے وہاں سے گزر جاتے ہیں اور ان کو کوئی پیغام نہیں ملتا۔ کوئی فیض ان کو نہیں ملتا پس میں جب کہتا ہوں کہ جماعت سپین کو اب یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ اپنے اندر مر بی پیدا کرو۔ تبلیغ کے جو کام شروع کئے ہیں اس کے دوران جو خامیاں ہمیں نظر آئی ہیں کسی باہر سے آنے والے نے وہ خامیاں تمہیں نہیں بتانی تبلیغ کے دوران تمہیں خود معلوم ہوگا تم سے بہتر کوئی نہیں جانتا کہ کسی علمی کمی کو تم نے محسوس کیا ہے ، کسی دینی تربیت کی کمی کو تم نے محسوس کیا ہے ۔ یہ احساس ایک ایسا احساس ہے جسے ان مٹ بنانا ضروری ہے کیونکہ ایسا احساس تو ہر شخص کو کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ بعضوں کے احساس آئے اور مٹ گئے جیسے ریت پر لکھی ہوئی تحریریں ہوا کرتی ہیں ۔ آج آندھی ایک طرف سے چلی ہے ایک سمت کی لہریں ڈال گئی ہے۔ دوسری دن دوسری سمت سے چلی ہے ان لہروں کو بدل کر اس نے ان کا رُخ بدل دیا نئی سمت کی لہریں بن گئیں۔ کبھی جھکڑ اس طرح چلتے ہیں کہ کچھ بھی باقی نہیں رہتا کھچڑی سی بن جاتی ہے۔ تو ایسا شخص جو نیک نصیحتوں کو اس طرح قبول کرتا ہے جیسے ریت ہواؤں کے اثر کو قبول کرتی ہے اس کی قبول کرنے کی صلاحیت کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہوتا ، وہ بغیر شک کے مٹ جایا کرتی ہے لیکن بعض ایسے لوگ ہیں جن کو ایک چھوٹی سی بات بھی اس طرح گہرا اثر کر جاتی ہے کہ ان کے دل کی ان مٹ تحریر بن جایا کرتی ہے۔ ان کی زندگیاں اس پیغام سے پھر ہمیشہ فائدہ اٹھاتی رہتی ہیں اور ہمیشہ تبلیغ ہوتی رہتی ہے۔ بڑے لوگوں کے واقعات آپ پڑھیں ، ان کی زندگیوں کے سرگزشت خواہ خود انہوں نے لکھی ہو یا کسی نے لکھی ہو ان کو پڑھ کر دیکھیں آپ کو بسا اوقات یہ معلوم ہوگا کہ ایک انسان جس کو