خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 368
خطبات طاہر جلد ۱۱ 368 خطبه جمعه ۲۹ مئی ۱۹۹۲ء تربیت کا شعبہ اور جماعت کو سمجھایا جائے کہ باہر کا مربی ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک انسان کے اپنے دل میں ایک مربی نہ پیدا ہو جائے۔اپنی علمی کمزوری کی طرف توجہ ہو اور دل اس بات پر بار بار زور لگائے اور اپنی ذات میں آپ سے احتجاج کرے اور کہے کہ مجھے کچھ بتاؤ میں کیا کروں۔میرے لئے کچھ کرو کیونکہ مجھے موجودہ حالت پر چین نہیں آتا۔دل کا یہ کام ہے، دل کی زبان بظاہر گونگی ہے علمی لحاظ سے تفاصیل میں نہیں جاتا لیکن بہت ہی پیارا کام ہے جو یہ کرتا ہے۔مچلتا ہے ، بیقراری کا اظہار کرتا ہے،مطالبے کرتا ہے خواہ وہ بالکل سادہ ستھرے، خواہ معمولی زبان میں مطالبے ہوں یا زبان نہ بھی ہو تو ان کے مطالبوں کا مطلب سمجھ آجاتا ہے۔چھوٹے بچے جن کو بولنا نہیں آتا جب وہ اپنی ماؤں سے مطالبے کرتے ہیں تو زبان سے تو نہیں کیا کرتے وہ اپنے چھوٹے سے بستر پہ تڑپتے ہیں، ٹانگیں مارتے ہیں، روتے ہیں ، چیتے ہیں۔ماں کا کام ہے سمجھے اور جب تک وہ سمجھ نہ جائے وہ بچے اپنی ضد نہیں چھوڑتے اپنا مطالبہ نہیں چھوڑتے۔پس دل کا یہی حال ہے۔عقل اگر ماں باپ کا مقام رکھتی ہے، عقل زبان رکھتی ہے ،عقل سمجھتی ہے اور سمجھانا جانتی ہے۔تو دل بھی اپنی زبان رکھتا ہے اور اپنے طور طریق ہیں جن کے ذریعہ یہ دوسرے کو بات سمجھا دیا کرتا ہے۔اور دل کے سمجھانے کے طریق ایک معصوم بچے کی طرح اس کی بے چینی اور بیقراری ہے۔پس ایک انسان جسے اپنی کمزوری کا احساس ہو اور وہ احساس بے چینی میں بدل جائے۔اس احساس کے نتیجے میں وہ نہ دن کو چین پائے نہ رات کو چین پائے وہ ضرور کچھ نہ کچھ دماغ کو آمادہ کر کے چھوڑے گا کہ وہ اس کے لئے کچھ کرے۔پس وہ لوگ جو علمی ترقی کرتے ہیں ضروری نہیں ہے کہ وہ کسی مدرسے میں تعلیم پائیں۔بہت سے ایسے احمدی میرے علم میں ہیں جنہوں نے خود اپنی تربیت کی ہے اس لئے کہ ان کا دل پہلے تڑپا تھا، ان کے دل نے اس بات کو محسوس کیا تھا کہ جو مقام اور مرتبہ مجھے عطا ہوا ہے اس کے مطابق مجھے علم نہیں ہے اور اس لحاظ سے میں پیچھے رہ گیا ہوں۔چنانچہ اس وجہ سے ان کے دلوں میں شوق پیدا ہوئے انہوں نے از خود منتیں کیں، خود پڑھنا شروع کیا، اپنی کمزوریوں کو دور کیا ، اگر دلائل میں کمزور تھے تو دلائل کی طرف توجہ کی غرضیکہ مربی دل میں پہلے پیدا ہوتا ہے۔تب انسان حقیقت میں علمی اور دینی تربیت حاصل کرتا ہے۔اگر دل سے وہ مطالبہ نہ پیدا ہو ، دل سے کسی چیز کی تڑپ کی آواز سنائی نہ دے تو باہر سے لاکھ کوشش کی جائے ایسے